غارِ ثَور میں انوارِ معیت


 

خاموشی کے گہوارے میں لپٹی سنسان راہ گزر پر جب آفتابِ رسالت مآب ﷺ اپنے انقلابی پیغام کی جستجو میں گامزن تھے تو ایک دلباختہ، والہانہ شیدائی—جس کے دل کی دھڑکنیں بھی محبوبِ حقیقی کے قدموں کی چاپ سے ہم آہنگ تھیں—کبھی آپﷺ کے دائیں بائیں، کبھی آگے پیچھے یوں سایہ فگن رہا گویا وجودِ ناقص سے حصارِ ایمنی قائم کر دے کہ مبادا کوئی غدار شب پرہ، کمین گاہ سے جھپٹ کر جانِ کائنات  کو گزند نہ پہنچا سکے۔ راہ کی طوالت اور سفر کی مشقت نے جب مبارک قدمین و انگشتانِ نورانی کو جَلد و آزار سے دوچار کیا تو اس فدائیِ صادق نے اپنی بازوؤں کی طاقت اور شانے کی رفعت کو تختۂ اقبال بنا کر تاجدارِ مدینہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور سنگلاخ و غارت دہ منزل تک بہ دوش لے گیا۔


یہ وہ ساعتِ ابتلاء تھی جب ظلمت شعار مشرکینِ مکّہ کی درندگی اور استبداد حدِّ کمال کو چھو چکے تھے اور زمینِ مکّہ اپنے ہی فرزندوں پر تنگ کر دی گئی تھی۔ ایسے میں مربیِ انسانیت و محسنِ اعظم ﷺ کے دستِ تربیت میں پرورش پانے والے رجالِ صدق و وفا نے بارگاہِ رسالت میں اجازتِ ہجرت کی التجا کی۔ نبیِ مکرم ﷺ نے حکمت و بصیرت کے بحرِ ژرف سے فیصلہ صادر فرمایا کہ اہلِ ایمان کو ایک ایک، دو دو کر کے مدینۂ منورہ کی طرف روانہ کیا جائے، تاکہ یہ انتقالِ مقدس خفیہ بھی رہے اور تکمیل پذیر بھی۔ لیکن مکّہ—جو وسعت میں محض ایک قصبہ سا تھا—میں یہ راز زیادہ دیر  پنہاں نہ رہ سکا اور تھوڑے ہی دنوں میں کفار کو آگہی ہوگئی کہ مسلمان اپنے اوطان و اموال کو خیر باد کہہ کر دارالہجرت کی طرف عازمِ سفر ہیں۔ استبداد کی انتہا یہ تھی کہ بعض کو اپنی متاعِ دنیا کے عوض اجازتِ کوچ دی گئی اور بعض کو بے رحمانہ طور پر روک دیا گیا۔


مگر کفر کی کوتاہ اندیشی یہیں ختم نہ ہوئی، وہ اس بات کے بھی روادار نہ تھے کہ اہلِ ایمان مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں چین و سکون کا سانس لے سکیں۔ بالآخر جب قریش نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ خود صاحبِ کائنات ﷺ کے وجودِ اقدس کو نیست و نابود کر دیں، تو بارگاہِ الٰہی سے حکمِ ربانی صادر ہوا اور سیدالانبیاء ﷺ نے صدیقِ اکبرؓ کو ہم رکاب بنا کر ہجرتِ کبریٰ کا ارادہ فرمایا۔ شبِ ہجرت کو کفار نے مکّہ کے ہر جابر و غدار کو نبیِ رحمت ﷺ کے درِ دولت پر پہرہ دار بنا کر گھیراؤ کر لیا۔ لیکن ربِ قدیر کی تدبیر کے سامنے ان کی تمام مکاری ہیچ ثابت ہوئی۔ سرورِ کائنات ﷺ نے اپنے فدائی و جاں نثار، شیرِ خدا حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر لٹا دیا اور خود تلاوتِ سورۂ یٰسین کرتے ہوئے ان باغیانِ قریش کے سروں پر خاکِ حقارت ڈال کر سکون و اطمینان کے ساتھ گھر سے نکلے اور بسلامت اپنے رب کے قاصد بن کر ہجرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔


جب صبحِ دم قریش کے شقی القلب سرداروں نے آپﷺ کے مسکن کو محاصرہ کے بعد ٹٹولا تو نگاہِ حسرت میں یہ منظر آیا کہ خوابگاہِ مصطفوی میں شیرِ خدا، حضرت علی مرتضیٰؓ محوِ استراحت ہیں اور محبوبِ کائنات ﷺ کہیں عنقا ہو چکے ہیں۔ یہ عقدہ کھلتے ہی ان کے ہوش و حواس اڑ گئے اور وہ ندامت و خجالت کے بجائے حرص و طمع کے نشے میں بپھر اٹھے۔ آپﷺ کے قتل کی خاطر انہوں نے اعلان کیا کہ جو شخص سرورِ عالم ﷺ کو قتل کرکے سرِ انور پیش کرے گا، اسے صلہ میں سو اونٹ دیے جائیں گے۔


اس لالچ نے عرب کے صحراؤں میں موجود زر پرست دلوں کو تڑپایا اور کتنے ہی جفاکار تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ انہی میں ایک سراقہ بن مالک بھی تھا، جس کا واقعہ تاریخ کے اوراق پر جلی حروف سے ثبت ہے۔ اس نے بارہا آپﷺ کے قریب پہنچنے کی سعی کی، مگر قدرتِ الٰہی کا معجزہ یہ ہوا کہ اس کا گھوڑا ہر مرتبہ زمین میں دھنس جاتا اور آگے بڑھنے سے عاجز ہو جاتا۔ بالآخر جب قہرِ تقدیر کے آگے اس کی ہمت نے دم توڑ دیا تو اس نے درِ رحمت پر دستک دی اور امان طلب کی۔ حبیبِ کبریا ﷺ، جو سراپا رحمت اور مظهرِ عفو و درگذر تھے، اس کی فریاد پر مہربان ہوئے اور امن و امان کا مکتوب تحریر فرما کر اسے عنایت فرمایا۔ یوں دشمنِ وقت بھی آپ کے دامنِ کرم سے فیضیاب ہوا۔ 

ہجرتِ مصطفوی کے اس پرآشوب مرحلے میں جب سیّدِ کائنات ﷺ غارِ ثَور کی طرف روانہ ہوئے تو رفیقِ غار، مجسّم وفا، محوِ صدق و صفا، حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے آقا کے گرد پروانہ وار گشت زن رہے۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں اور کبھی پیش و پس چلتے کہ مبادا کوئی کمین گاہ کا بزدل حملہ آور اپنی شقاوت بھری گھات سے محبوبِ خدا ﷺ کو گزند نہ پہنچا دے۔ چلتے چلتے جب انگشتانِ مبارک میں خفیف سی آزار کی کیفیت محسوس ہوئی تو اس محوِ محبت غلام نے اپنی پشت کو تختِ وفا بنا لیا اور معراجِ انسانیت ﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر غار کے دہانے تک پہنچایا۔


یہی نہیں، بلکہ پہلے خود داخل ہو کر گوشہ بہ گوشہ غار کو چھانا کہ اگر کوئی موذی یا درندہ چھپا بیٹھا ہے تو اس کے زہر کا نشانہ میں بنوں اور میرے آقا ﷺ سلامت رہیں۔ یہی تو ہے ضابطۂ عشق کہ راہِ وفا میں جان بھی قربان ہو جائے تو پسپائی کا کوئی شائبہ دل میں نہ آئے۔

غار کے اندر تین دن تک قیام رہا۔ خدمتِ اخلاص میں حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ خبریں پہنچاتے، سیدہ اسماءؓ کھانے کی سبیل کرتیں اور حضرت عامر بن فَہِیرہؓ دودھ کی سبیل سے مرہم وفا رکھتے۔ اسی اثناء میں کفارِ مکہ، جو خون کے پیاسے درندوں کی طرح تلاش میں سرگرداں تھے، اس غار کے دہانے تک جا پہنچے۔


حضرت صدیق اکبرؓ کی آنکھوں میں خوف کی جھلک اتر آئی کہ اگر کسی نے ذرا بھی جھانک لیا تو راز آشکارا ہو جائے گا۔ مگر سبحان اللہ! محبوبِ کبریا ﷺ کے قلبِ مطمئن پر ذرہ بھر لرزش نہ تھی۔ آپؐ نے صدیقؓ کو تسکین دی اور وہ جاوداں کلمہ ارشاد فرمایا جسے قرآن نے اپنے اعجازِ بیان سے ابدی سند عطا کر دی:

"لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا"

(غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔)

یوں ربِ قدیر نے اپنے حبیب و حبیب کے رفیق پر سکینت نازل فرمائی اور غارِ ثور کا یہ واقعہ وفا و ایقان کی ابدی علامت بن گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی