اے خالقِ کائنات و مالکِ موجودات! اے ربِ جلیل و آقاے کریم! میں اپنی درماندگی و بےچارگی، اپنی ناتوانی و لاچاری کا فریاد رس تجھ ہی کو جانتا ہوں۔ یہ قومِ جفا پیشہ مجھے ذلیل و خوار کرنے پر یکجا ہو چکی ہے، میری توہین و تحقیر کو اپنا شعار بنا بیٹھی ہے، سو اس کرب و الم کی روداد بھی تیرے ہی دربارِ کبریا میں پیش کرتا ہوں۔
اے سب سے بڑھ کر مہربان ذات! اے میرے پروردگارِ عظیم! تُو ہی فرما، مجھے کن کے حوالے کر رہا ہے؟ ان کے جو میرے وجود سے بیزار ہیں؟ ان کے جو استہزا و تمسخر کو میرا نصیب ٹھہراتے ہیں؟ اے ربِّ عظیم الشان! اگر تیرا غضب میرے شاملِ حال نہ ہوا، اگر تیری ناراضی و خفگی مجھ پر سایہ فگن نہ ہوئی، تو پھر مجھے کسی ملامت، کسی دشنام اور کسی اذیت کی ذرا پرواہ نہیں۔
اے الٰہ العالمین! تیری عافیت کی وسعتیں لامحدود ہیں اور تیری رحمت کا دامن بے کنار۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس اندیشہ سے کہ کہیں مجھ پر تیرا غضب وارد نہ ہو یا تیرا قہر نازل نہ ہو۔ بس تیرا راضی ہونا ہی میری غایت ہے، اور میں تیری رضا کے جویائے ابدی ہوں، یہاں تک کہ تو سراپا خوشنودی کے ساتھ مجھ پر متبسم ہو جائے۔
وادیِ غیر ذی زرع کے بنجر آغوش سے تقریباً چالیس میل کے فاصلے پر ایک دلآویز وادی واقع ہے، جس کی فضا زرخیز باغات اور پہاڑی سلسلوں کے حسن سے آراستہ ہے—یہی شہرِ طائف ہے، جہاں تاریخِ انسانیت کے سب سے عظیم مصلح، رہبرِ انقلاب اور معمارِ انسانیت، سرورِ کائنات ﷺ پر وہ دل سوز مظالم ڈھائے گئے کہ قلم آج بھی لرزاں ہے، ہاتھ کپکپاتے ہیں اور دیدۂ نم ناک سے بےاختیار اشک رواں ہو جاتے ہیں۔
یہ ظلم نہ کسی اتفاقی ہجوم کا نتیجہ تھا اور نہ ہی کوئی بےساختہ جذباتی ردعمل، بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی اور سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت طائف کے اوباشوں اور آوارہ مزاج بددماغوں کو آپ ﷺ کے تعاقب پر مامور کیا گیا۔ کوئی تالی بجا کر تمسخر اڑاتا، کوئی سیٹی کے شور سے اپنی وحشت کا مظاہرہ کرتا، کوئی لغو جملوں کے تیروں سے اپنی گھٹی ہوئی تربیت کا چرچا کرتا، کوئی ہلڑ مچانے پر مصر رہتا—یوں طائف کی گلیاں شور و غوغا سے لبریز ہوگئیں۔ بالآخر اس آفتابِ حق و صداقت کو ایسے ہجوم میں لا کھڑا کیا گیا جس کی دونوں سمتیں صف بستہ افراد پر مشتمل تھیں، ہاتھوں میں پتھر اور دلوں میں بغض و حسد کی آگ سلگ رہی تھی۔
اور پھر جب یہ ہجوم ذاتِ اقدس ﷺ، جو کلِ کائنات کا حقیقی خیر خواہ ہے، کی نظروں کے سامنے آیا تو وہی سلوک روا رکھا گیا جو تاریخِ انسانیت اپنے محسنوں کے ساتھ ہمیشہ کرتی آئی ہے۔ پتھروں کی بارش شروع ہوئی—یہ مت پوچھئے کہ ان کے ہاتھ کیسے اٹھے اور ان کے دلوں کو یہ جرأت کس نے دی؟ یہ سوال آج بھی فکر و وجدان کو سرگرداں رکھتا ہے۔
پتھروں کی یلغار نے سرِ اقدس سے لے کر قدمینِ مبارک تک کوئی مقام سلامت نہ چھوڑا، پنڈلیاں اور گھٹنے زخموں سے چھلنی ہو گئے، خونِ مطہر بہہ کر نعلینِ مبارک تک جا پہنچا اور خون کی روانی نے قدمین اور نعلین کو یوں چمٹا دیا گویا ایک ہی وجود ہو گئے ہوں۔ جب شدتِ آزار سے آپ ﷺ زمین پر تشریف فرما ہو جاتے تو یہ سنگ دل طائف والے آپﷺ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر دوبارہ کھڑا کرتے تاکہ آپﷺ پر مزید پتھر برسا سکیں۔ چند قدم چلنے کی مہلت ملتی، پھر آپﷺ بیٹھ جاتے اور وہی ظالمانہ منظر دہرا دیا جاتا۔
یہ عالم زمین و آسمان نے بھی دیکھا، اور ربِ قادر و قاہر کی نگاہِ علم سے کیسے پوشیدہ رہ سکتا تھا؟ آخر کار اس وحشیانہ سنگ باری نے جسمِ اطہر کو اس قدر لہولہان کیا کہ آپ ﷺ نڈھال ہو کر بے ہوش گر گئے۔ آپﷺ کے وفادار رفیق نے گرتے ہوئے جسمِ مبارک کو سہارا دیا، قریب بہتا ہوا پانی میسر آیا تو خون کو دھویا گیا۔ کچھ دیر بعد جب طبیعت بحال ہوئی تو ایک باغ کی پناہ لی گئی، انگور کی بیل کے سایہ تلے افقِ نبوت کا یہ آفتاب تھوڑی دیر لیٹ کر اپنے معبودِ برحق کی بارگاہ میں سراپا عجز و نیاز بن گیا، اور دلِ دردمند نے جراحتوں اور آلام کے بیچ مناجات و دعا کا سہارا لیا۔
آپ ﷺ کے زخموں کی ٹیس، رگ و جاں میں پیوستہ درد، دل کے سوز و گداز اور جگر کی تڑپ نے نالہ و فریاد کو وہ تاثیر بخشی کہ عرشِ بریں لرز اُٹھا، فرشتگانِ قدس ششدر رہ گئے اور کرۂ خاکی کی فضائیں ماتم کناں ہو گئیں۔ انہی کرب انگیز لمحات میں آپ ﷺ نے بارگاہِ ایزدی میں وہی دردناک مناجات کی جو ابھی پیش کی گئی، اور جس کی سطریں ہمیشہ کے لیے تاریخِ انسانیت میں حروفِ زر سے ثبت ہو گئیں۔
میرے عظیم محسن، سرمایہ تخلیق اور انسانیت کے معمار، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا وہ باب، جس میں تبلیغِ اسلام کی پاداش میں آپ ﷺکو جو مصائب و تکالیف، آزمائشوں اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنی نوع میں بے نظیر ہیں۔ مکہ مکرمہ کے کٹھن ایام میں جان لیوا مظالم ڈھائے گئے، جانثار اصحاب بے بسی کے سمندر میں ڈوبتے رہے، حبشہ کی طرف ہجرت کا کڑا مرحلہ درپیش آیا؛ شعبِ ابی طالب کا اذیت ناک مقاطعہ و محاصرہ سہنا پڑا، قریشی جاہلوں کے مسلسل اور نہ تھمنے والے ستم آزمائے گئے۔ یہاں تک کہ ابو لہب اور دیگر شرپسندوں کے اشارے پر سرِ اقدس پر غلاظت ڈالی گئی، آپ ﷺ کے گذرگاہ پر کانٹے بچھائے گئے، جسمِ اطہر پر اونٹوں کے اوجھڑی رکھی گئی اور غبار آلود ہاتھوں نے لباس و جسم مبارک کو گرد و غبار سے آلودہ کرنے کی بیباکانہ جسارت کی۔
یہ سب مظالم دیکھ کر جگر گوشہ مصطفیٰ، آپ ﷺ کی صاحبزادیاں دلگیر اور اشکبار ہو جاتیں، اور زبان سے بے ساختہ بددعائیہ جملے نکل جاتے۔ مگر آفتابِ نبوت ﷺ نے اپنی لختِ جگر کو صبر و رضا کا درس دیتے ہوئے فرماتے کہ:
”اے بیٹی! اے جانِ پدر! دلگیر نہ ہو، تیرے باپ کا اللہ خود محافظ ہے۔“
گویا ظلم و ستم کی آندھیاں، اذیت و تکلیف کے کوڑے، ذہنی کوفت کے نشتر اور جسمانی تشدد کی طوفانی بارشیں آپ ﷺ کے سراپائے اقدس پر ٹوٹ پڑیں، مگر اس بحرِ کرم کے ساحل پر صبر و تحمل کے موتی بکھرتے رہے، عفو و درگزر کے چشمے اُبلتے رہے، ضبط و برداشت کی مثالیں قائم رہیں، اور استقلال کی چوٹیوں پر ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ تاریخ کے اوراق آج بھی آپ ﷺ کی رحمت و رافت، عزیمت و ثبات، فراخ دلی و حوصلہ مندی کی داستانوں سے معطر و مزیّن ہیں۔
جب مکہ کے گوشے گوشے میں عداوت و دشمنی کے شعلے بھڑکائے گئے، اور شہر کا بچہ بچہ بغض و عناد میں جلنے لگا، تو آپ ﷺ نے مکہ کی تنگ فضاؤں سے نگاہ اُٹھا کر باہر کا رخ کیا اور وادیِ طائف کو مرکزِ توجہ بنایا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں قریش کے سرداروں نے اپنی کوٹھیاں بنائی تھیں اور قبیلۂ ثقیف کی جمیعتِ کثیر آباد تھی۔ آپ ﷺ اس زرخیز مگر بدنصیب وادی میں پیغامِ توحید لے کر داخل ہوئے، عوام و خواص کے سامنے حق کی دعوت رکھی، سردارانِ قبیلہ کے دروازوں پر تشریف لے گئے، اور انہیں سعادتِ قبولِ اسلام کی طرف متوجہ فرمایا۔
مگر صد افسوس! ان کی پیشانیوں پر بدبختی کی لکیریں اور دلوں پر قساوت کے پردے حائل تھے۔ کسی نے گستاخانہ لہجے میں کہا: "اگر اللہ نے تجھے رسول بنایا ہے تو گویا خانہ کعبہ کی حرمت پامال کردی۔" کسی نے تمسخر میں کہا: "اللہ کی قسم! میں تجھ سے بات نہیں کرتا۔ اگر تو واقعی رسول ہے تو رسول کی شان ہے ہی نہیں کہ اس سے مناظرہ کیا جائے، اور اگر جھوٹا ہے تو میری شان نہیں کہ تجھ جیسے کاذب سے گفتگو کروں۔"
اسی وقت ملأ اعلیٰ کے دروازے کھلے، حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے سب کچھ سن لیا اور دیکھ لیا۔ یہ ملک الجبال میرے ہمراہ ہے، آپ حکم دیجیے، پہاڑوں کو ملا کر اس قوم کو پیس ڈالے۔"
مگر ہائے! وہ پیکرِ صبر و ضبط، مجسمۂ تحمل و برداشت، استقلال و ثبات کا کوہِ گراں، اور رحمت و شفقت کا بحرِ بے کراں—آپ ﷺ نے جواب دیا، اور تاریخِ انسانیت کو وہ جملہ بخشا جو قیامت تک رحمتِ محمدی ﷺ کا مینارِ نور بن کر جگمگاتا رہے گا:
"مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ کی توحید کے پرستار اور شرک سے بیزار ہوں گے۔"
طائف کا یہ کرب انگیز باب لکھتے ہوئے دل آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے، اور اشکوں کا دریا بہنے لگتا ہے۔ مگر لکھنا اس لیے ضروری ہے کہ منبرِ رسالت کا حق صرف خوش ذائقہ حلوے کے تذکرے یا دنیاوی لذتوں کی آرزو سے ادا نہیں ہوتا، حضور سیدالانبیاء ﷺ کی سنت کا مفہوم اس سے کہیں بلند، کہیں گہرا اور کہیں زیادہ کٹھن ہے۔
اسی لیے شاعر کی صدا دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے اور میری بھی یہی تمنا ہے کہ:
بیچ طائف بوقتِ سنگ زنی
تیرے لب پہ سجی دعا ہوتا
