عہدِ ثبات و استقامت




 ایک نہایت لطیف و نازک قامت، ماہتابی رخسار اور گلِ تر کی مانند معصوم بچی، جب اپنے عظیم المرتبت اور جلال و جمال میں یگانہ والدِ ماجد ﷺ کے ہمراہ کوچہ و بازار کی سمت نکلتی، تو اپنے کومل و عنبری ہاتھوں کی نرم گرفت سے اُس دستِ کرم یعنی آپﷺکی انگلی  تھامنے کی ضد کرتی، جس میں کائنات کی عزت و رفعت سمٹی ہوئی تھی۔ 

جب وہ مربی و مشفق والد ﷺ  اُس نورِ نظر کے ریشمی بالوں پر دستِ شفقت پھیرتے اور نہایت دلنوازی سے دریافت کرتے:
"اے جانِ پدر! اے لختِ جگر!اے جانِ پدر! یہ رغبت و خواہش کیوں ہے؟"

تو وہ معصوم و طاہر بچی اپنی پُرنم آنکھوں اور ریشمی پلکوں کے زیرِ سایہ لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیتی، وہ ننھی کلی، جس کی زبان پر سادگی اور دل پر صداقت کا بسیرا تھا، لرزتی ہوئی آواز میں یوں عرض کناں ہوئی:


"بابا جانﷺ! اے صبر و شکر کی مجسم تصویر! اے میرے عزیز از جان پدر! میرا نازک سا دل ہر لحظہ اس اندیشے میں تپتا رہتا ہے کہ یہ خون آشام بھیڑیے، یہ ظلم و جور کے پیکر، یہ سفاک اور درندہ خو کفار کہیں آپ کو تنہا پا کر اپنی خباثت کا نشانہ نہ بنا ڈالیں۔

 

بابا جان! یہ ظالم، جب آپ کو اکیلا دیکھیں گے تو اپنی زہر بھری نگاہوں اور خنجر صفت ہاتھوں سے آپ کو ایذا پہنچانے کی جسارت کریں گے۔ لیکن جب یہ پست ہمت لوگ دیکھیں گے کہ میں، آپ کی لختِ جگر، آپ کی معصوم دختر آپﷺ کے پہلو میں ہوں، تو پھر وہ آپ کے قریب آنے کی بھی جرأت نہ کرسکیں گے، بلکہ اپنی غیظ و غضب بھری آنکھیں نیچی کر لیں گے۔"

 اکثر ایسا ہوتا کہ جب معاندینِ حق کی خباثت اپنے عروج پر پہنچتی اور وہ راہگزر میں خاردار شاخیں بچھا دیتے، تو وہ نوکیلے کانٹے آپﷺ کے پائے مبارک میں چبھ جاتے۔ آپﷺ اپنے مبارک ناخن سے انہیں کھینچنے کی کوشش فرماتے، مگر بعض نوکیلے سرے گوشت کی گہرائی میں پیوست ہو کر رہ جاتے۔ تب وہ نازک اندام دختر، اپنی لرزتی ننھی انگلیوں سے ان کانٹوں کو ایک ایک کر کے چنتی، اور ہر کانٹے کے ساتھ اُس کے دل کے تار بھی ٹوٹ کر سسک اُٹھتے۔


جب مکہ کے غرور و نخوت میں ڈوبے ہوئے کفار اپنی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے اور آپﷺ کے سرِ اقدس پر غلاظت و آلودگی پھینکنے کی جسارت کرتے، تو وہ معصومۂ غمزدہ اپنی نازک ہتھیلیوں سے سرِ انور کو صاف کرتی، کبھی پانی گرم کر کے لاتی اور آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ آپ کے بالوں کو دھوتی۔ اس دوران اس کی ہچکیوں سے بھری ہوئی آواز فضا میں یوں بکھر جاتی جیسے کسی ٹوٹی ہوئی بانسری کے سُر:

"بابا جانﷺ! اے راحتِ جاں و دل! آپ کیوں اتنی اذیتیں سہتے ہیں؟ آخر یہ دلوں کے اندھے اور بصیرت کے محروم کیوں آپ کے حق میں اس قدر درندگی برتتے ہیں؟ اے پدرِ مہربان! کاش میری جان آپ پر قربان ہو جائے اور یہ زخم میرے وجود پر منتقل ہو جائیں تاکہ آپ کے قدم سلامت رہیں!"

 پھر وہ غموں میں ڈوبی ننھی کلی، اپنی لرزتی پلکوں کو آنسوؤں کے بوجھ سے آزاد کرتے ہوئے، پدرِ مشفق و مہربان کے قدموںﷺ سے لپٹ جاتی اور اپنی نرم و نازک زبان سے گویا یوں تسلّی دیتی:

"بابا جان! میرے عزیز از جاں پدر! دل کو قلق و اندوہ سے آزاد رکھیے، فکر نہ کیجیے، ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے۔ آپ کی ذاتِ اقدس پر یہ آلام و مصائب اس لیے نہیں کہ آپ نے کوئی خطا یا کوتاہی کی ہے، نہ ہی آپﷺ نے ایسا رویہ اختیار فرمایا ہے جس سے ان کے ظلم و ستم کو کوئی جواز ملے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ہی وہ منادیِ حق ہیں جو انہیں صداقت و راستی کی طرف بلا رہے ہیں، مگر یہ دل کے بہرے اور آنکھ کے اندھے اس حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔لیکن اے میرے بابا جان! جس رب نے آپ کو منتخب فرمایا، اس کے سوا کون ہے جو بہتر تدبیر کرنے والا، بہتر کارساز اور کامل نگہبان ہو؟ پس آپ مطمئن رہیں، یہ سب حادثات آپ کے خلاف نہیں بلکہ آپ ہی کے حق میں ہیں۔ یہ گردابِ بلا آپ کی رسالت کے سمندر کو اور بھی تابناک کر دے گا، یہ کٹھن لمحات آپ کی صداقت کے چراغ کو اور بھی روشن کر دیں گے۔"

یہ مکی دور کی وہ گھڑیاں تھیں جب صحرائے عرب کی تپتی ریت پر ایک ایسی صدا گونج رہی تھی جو قیامت تک اہلِ حق کے دلوں میں حرارت اور اہلِ باطل کے اذہان میں زلزلہ برپا کرنے والی تھی۔ ایک اسلامی فلاحی ریاست کی تاسیس سے پیشتر ایک باطنی انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی تھی؛ خلافتِ ظاہرہ کے افق سے قبل خلافتِ باطنہ کا مینار نور خفیہ دعوت و تبلیغ کے چراغ سے فروزاں تھا۔

یہ وہ ایام تھے جن میں سرورِ دو جہاں ﷺ اپنی حیاتِ طیبہ کے سب سے جاں گسل اور صبر آزما لمحات سے گزر رہے تھے۔ ایک جانب عرب کے متکبر اور سنگ دل سرداران قریش اپنی جبروت کے نشے میں بدمست تھے اور دوسری طرف ان کے پست فکر، غلامانہ ذہن رکھنے والے پیروکار بھی ظلم و استبداد کی حد پار کر رہے تھے۔ ان سب کا مشترکہ مقصد یہی تھا کہ اس نورانی آواز کو دبایا جائے جو انسان کو اس کی اصل معراج سے روشناس کر رہی تھی اور اسے ظلمت کدۂ جاہلیت سے نکال کر ہدایت کے مینارے پر لا کھڑا کرنے کی سعی فرما رہی تھی۔


یقیناً اسلام کا ابتدائی دور ایک پہاڑ جیسی صعوبتوں اور گرداب جیسی ابتلاؤں سے مملو تھا، مگر اسی دور کی عظمت یہ ہے کہ اس میں نبی کریم ﷺ کی مدبرانہ بصیرت، آپﷺ کے لامحدود صبر اور بے مثال استقامت کا پرچم ہمیشہ لہراتا رہا۔ مشرکینِ مکہ نے اجتماعی عہد و پیمان باندھ لیا تھا کہ محمد ﷺ کا وجود ان کے اقتدار و استبداد کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کے لیے اصل خطرہ یہ نہ تھا کہ آپ ایک نیا دین لے کر آئے ہیں، بلکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ آپ ان کے بت پرستانہ عقائد اور باطل نظریات کے سب سے توانا ناقد ہیں، اور ان کی گہری جمی ہوئی جڑوں کو اپنی دعوتِ توحید کی تیز دھار کلہاڑی سے کاٹ رہے ہیں۔


وہ آہنی گرفت جس نے صدیوں سے عوام کو جہالت کے سلاسل میں جکڑ رکھا تھا، کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ وہ لوگ جو کل معاشرتی پستیوں میں گم اور بے وقعت شمار ہوتے تھے، آج کلمۂ حق کی قوت سے قریش کے سرداروں کے سامنے سینہ سپر کھڑے تھے۔ وہ بلالِ حبشی رضی اللہ عنہ، جس کی صورت و سیرت کو معاشرہ حقارت سے دیکھتا تھا، وہ غلام جو کل آقا کے ہر اشارے پر بے چون و چرا جھکتا تھا، آج سنگین اذیتوں کے باوجود "احد، احد" کی گونج سے جاہلیت کی بنیادوں کو لرزا رہا تھا۔


یہ اگر قریش کے لیے زوال کی گھنٹی نہ تھی تو اور کیا تھی؟ 


 یہ وہ عہد تھا جب زمینی حقائق سے آنکھیں چرانا ممکن  نہ تھا۔ کچھ حقیقت پسند نفوس تھے، جو سراب کو حقیقت اور فریب کو یقین کا جامہ پہنانے پر آمادہ نہ ہوتے۔ جیسے جیسے اسلام کا دائرۂ نور وسعت پذیر ہوتا گیا، اہلِ ظلم و طغیان کے تیور بھی بگڑتے گئے، اور وہ ستم و جبر کی انتہاؤں کو چھونے پر مائل ہو گئے۔ دیکھیے! مکہ مکرمہ کی دہکتی ریت پر بے بس غلاموں کو لٹایا جاتا، ان کے سینوں پر چٹانوں جیسے بھاری پتھر رکھ کر قہقہوں کی گونج بلند کی جاتی۔ ظلم و تشدد کے وہ مناظر ایسے تھے کہ گویا خود فلسفۂ استبداد بھی ان جابرانہ حرکات پر شرمندگی محسوس کرتا ہو۔


ایک نحیف و ناتواں غلام، جو دو وقت کی نانِ جویں کے لیے ترستا ہو، بھلا ان سنگ دلوں کے لیے کیا خطرہ تھا؟ مگر ان کے دلوں میں دراصل وہ خفیہ وسوسہ کانٹا بن کر چبھ رہا تھا کہ اگر غلام اور بے وقعت افراد، اسلام کی برکت سے اس قدر ثابت قدم اور فولادی ہو سکتے ہیں، تو اگر کل کوئی صاحبِ شرف و وقار شخصیت اس چراغِ ہدایت کو قبول کر لے تو پھر ان کے ایوانِ اقتدار کی بنیادیں ہی لرز جائیں گی۔ یہی خوف انہیں ظلم و تعدی کی راہوں پر دھکیلتا رہا۔


مگر ادھر ایک اور ریاست بھی برپا تھی — وہ ریاست جسے  خلافتِ باطنہ کہا جا سکتا ہے۔ بظاہر وہاں کوئی ہیئتِ حاکمہ نہ تھی، کوئی عسکری قوت یا سیاسی اختیار نہ تھا، لیکن انہی پوشیدہ اصولوں پر مستقبل کی خلافتِ ظاہرہ کی بنیاد رکھی جانی تھی۔ مکہ مکرمہ میں یہ ابتدائی ریاست ایک مظلوم و مقہور ریاست تھی، جس کے شہری اہلِ ایمان تھے۔ ان کی ترجیحات دنیاوی اقتدار یا قوتِ بازو نہیں بلکہ صبر، استقامت اور تسلیم و رضا تھیں۔ جہاد و قتال کی اجازت ابھی اتری نہ تھی، اسی لیے ہر زخم سہنا، ہر تضحیک برداشت کرنا اور ہر اذیت پر مسکرا دینا ان کا دینی وظیفہ تھا۔


سرورِ کائنات ﷺ نے اپنے وجودِ مبارک پر سنگ زنی برداشت کر کے، اپنی پیشانی سے خون کے قطرے بہا کر، اپنے پاؤں میں پیوست کانٹے جھیل کر اور اپنی جان پر ظلم سہہ کر یہ درس دیا کہ اس راہِ ہدایت میں جذبات نہیں، صرف اصول اور ایمان کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپﷺ نے اپنے اصحاب کو عملاً سکھایا کہ  ہمارے ذاتی جذبات مؤخر ہیں، دینِ الٰہی مقدم ہے۔


آپ ﷺ کے انہی فیوض و برکات کے نتیجے میں ایک ایسی جماعت تیار ہوئی جو اطاعت و انقیاد میں بے مثال تھی۔ انہوں نے اپنی ہر خواہش کو نظریے کے تابع کیا اور اس ازلی و آفاقی اصول کو زندہ جاوید کر دیا کہ: "جذبات ہمیشہ نظریات کے تابع ہوا کرتے ہیں"۔ مکہ مکرمہ میں وہ کمزور و غلام مسلمان بھی صبر کے کوہِ گراں بنے رہے۔ وہ پِٹتے، جبر سہتے، مگر بے اذنِ رسول ﷺ لب کشائی نہ کرتے۔ اور پھر جب ہجرت کے بعد جہاد و قتال کا اذن اترا، تو دنیا نے وہ نظارہ دیکھا کہ انہی صابرانِ مکہ نے عرب کے نامور شہسواروں کو اپنی تلواروں کی ضرب سے خاک میں ملایا، اور وہ قوم جو کبھی مظلوم کہلائی جاتی تھی، فاتح و غالب ٹھہری۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی