یا صباحاہ!
ہائے صبح کا خطرہ!
اے عرب کے سردارو!
اے لوگو!
اے سننے والو!
ایک چالیس سالہ نوجوان، جس کا چہرہ سنجیدگی و متانت کے سنگم سے منور تھا، دردِ دل کی شدت لیے، وادی غیر ذی زرع میں واقع بلند و بالا صفا نامی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا تھا۔ اس کی آواز میں خوف کی شعلہ خیزی نمایاں تھی، لیکن امید کی نرم ٹھنڈک نے اس خوف کی گرمی کو کچھ حد تک ٹھنڈا کر رکھا تھا۔ خوف و امید کی کیفیت دائر یہ فرد، مجسمۂ حسن و جمال و صبر، اپنے خاندان کے بزرگوں کو پکار رہا تھا، جس کی وجہ سے وقت اور فضا بھی اس کے کلمات کی شدت پر کانپ رہی تھی۔
عرب میں اس قسم کی صدا کو خطرے کی شدید علامت سمجھا جاتا تھا؛ کہ جب کوئی شخص پہاڑ کی بلند چوٹی پر کھڑا ہو کر قوم کے بزرگان کو یکجا کرے، تو اکثر وقوع پذیر غیر متوقع اور سنجیدہ حادثات کے آثار نظر آتے ہیں۔ اس کی بھاری اور گرجدار آواز، جو پہاڑ کے دامن میں بھی صدائیں پیدا کرتی، نے لوگوں کو فوراً جاننے کے لیے متحرک کر دیا، اور کچھ لوگوں نے اپنے غلاموں کو بھیجا کہ جاؤ اور دیکھو کہ یہ معاملہ کیا ہے؟
دیکھتے ہی دیکھتے قوم کے سب بزرگ، سردار، بچے، بوڑھے اور نوجوان ایک جگہ جمع ہو گئے۔ سب کی نظریں اُس نوجوان کے چہرے پر مرکوز تھیں، اور دلوں میں خوف و یقین کی یکجا کیفیت طاری تھی؛ خوف اس بات کا کہ معلوم نہیں کونسی آفت ان پر نازل ہونے والی ہے، اور یقین اس بات کا تھا کہ یہ فرد ہمیشہ سنجیدہ، پختہ اور سچا ثابت ہوا ہے۔ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور یقیناً اس بار بھی یہ خبر سچ اور ہمارے لیے مفید ہوگی۔
ہائے ! میں مستشرقین کے عقل و شعور پر ماتم کیوں نہ کروں جو اس واقعے کی حقیقت کو محض عربی قبائل کی روایتی خطابت اور سماجی انتباہ کے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کس منہ سے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ یہ ایک سماجی و اصلاحی نعرہ تھا جو اس نوجوان نے لگایا باقی اس میں کوئی الٰہی پیغام یا نبوی پہلو شامل نہیں تھا۔
یہ ظالم اور ناواقف لوگ یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ یہ عظیم نوجوان چونکہ عرب کی تمدنی، سیاسی اور معاشرتی بدحالیوں پر سخت نالاں رہتا، ہر وقت اس قوم کی اصلاح و ہدایت کی فکر میں مشغول رہتا، اس تناؤ کی وجہ سے ان کے ذہن میں جو خیالات ابھرتے، وہ کبھی خارجی روپ دھار کر ظاہر ہوتے تو کبھی آواز کے روپ میں جلوہ گر ہوتے، اور ان خیالات کو ہی وہ وہی الٰہی ہدایت سمجھ بیٹھتے۔ ( نعوذ باللہ)
دل پر ہاتھ کر اپنے غور کیجئے کہ کیا واقعی ایسا تھا؟ نہیں ، ہرگز نہیں۔ یہ محض قبائلی انتباہ نہیں بلکہ قرآن کریم کے اعلانِ نبوت اور اتمامِ حجت کا پہلا عملی مظاہرہ تھا، جس میں اللہ تعالیٰ نے محسنِ انسانیت ﷺ کی زبان پر انسانیت کے سامنے اپنا پیغام جاری فرمایا کیا، اور جس کے اثرات آج تک دنیا کی تاریخ میں تاباں ہیں۔
اس عظیم نوجوان، عظیم رہبر، ناقابلِ شکست جرات و شجاعت کے مالک، صفا کی بلند و بالا چوٹی پر کھڑے ہو کر اپنی گرج دار آواز میں سامعین سے استفسار فرمایا کہ:
"اے لوگو! اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر تم پر گھات لگا کر پڑا ہے، جو شب و روز تم پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تو کیا تم یقین کرو گے؟ کیا تم پیشگی احتیاط کرو گے؟"
مجھے جواب دیجئے:
"میں کہوں کہ وہ کل یہاں پہنچ کر آپ کے جوانوں کو موت کی گھاٹ اتاریں گے۔ آپ کی باعزت خواتین کو رسوا کریں گے اور بچوں کو ظلم و ستم کا مزا چکھا دیں گے تو کیا تم میرا یقین کرو گے؟ کیا تم خود کی حفاظت کے لیے غور و فکر کرو گے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے موت کا انتظار کرو گے؟"
یہ سن کر تمام حاضرین کے دلوں میں خوف و ہراس کی لہریں دوڑ گئیں، لیکن ایک لحظاتی سکوت کے بعد سب نے ایک ہی زبان سے آواز بلند کی: "ہاں! ہاں! کیوں نہیں! ہم نے تو آپ کو ہمیشہ سچ بولتے دیکھا ہے۔ آپ نے زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا اور یہی اس خبر کی تصدیق کے لیے کافی و شافی دلیل ہے کہ آپ بالکل حق اور سچ کہہ رہے ہیں۔
یہ ان لوگوں کا اعتراف تھا جس میں خوف کی شدت اور یقین کی پختگی دونوں موجود تھیں،اور گویا وہ سب اس پہاڑ کی پشت پر موجود خطرے کی گہری حقیقت کو تسلیم کر رہے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی کوئی ہے جو ان پر چھپ کر ٹوٹ پڑنے کی گھات میں ہے، جس کی آنکھیں ان کے مال و زر پر مرکوز ہیں، کیونکہ تجربے نے انہیں یہ سکھا دیا تھا کہ یہ نوجوان، جس کی آواز میں حکمت اور سنجیدگی کا اثر موجزن ہے، کبھی جھوٹ کا سہارا نہیں لیتا۔
یہی وہ شخص ہے جس نے ہمیشہ سچ کی راہ اپنائی، سچ کے سوا کچھ نہ کہا، جس کی صداقت اور امانت ہر دل پر نقش ہو چکی ہے۔ اس لیے ان کے لیے انکار یا یقین نہ کرنے کا کوئی عقلی جواز باقی نہ رہا، اس وجہ سے سب نے اکٹھے ہو کر اپنے دل کی گہرائیوں سے کہا: "ہم یقین کرتے ہیں، ہم مان لیتے ہیں۔"
تمہید مکمل ہوچکی تھی تو اب اس عظیم شخصیت نے اپنے پہلے مشن کا آغاز کیا اور ان لوگوں کے دلوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
یہ حقیقت ہے تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کی آمد سے قبل خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اور اس کو واحد معبود جانو! میں اُس کا بھیجا ہوا پیغمبر اور رسول ہوں، تم یقین کر لو کہ اسی اعتراف میں تمہاری دنیوی و اخروی فلاح و نجات مضمر ہے۔ ان کی عبادت سے باز آؤ، جو تمہیں نفع پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتی اور نہ نقصان سے بچا سکتی! ان سب بتوں اور مورتیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو جو سراسر دھوکہ اور فریب کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ایک رب العالمین کی اطاعت میں یکجا ہو جاؤ، اور مجھ سے شریعت و دین قبول کرو، نیک اعمال کا اہتمام کرو، کیونکہ قیامت کے دن میرے رشتہ دار صرف وہی لوگ ہوں گے جو پرہیزگار اور متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے جرائم و گناہوں کا بوجھ سر پر اٹھائے ہوئے آؤ اور میں تمہیں کسی طرح کی مدد فراہم نہ کر سکوں۔
تم پکارو گے: یا محمدﷺ! یا محمدﷺ! لیکن اے میرے عزیز ساتھیو! لیکن میں اس حالت میں مجبور ہوں گا اور تمہیں نہیں بچا پاؤں گا ۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ برقرار ہے، اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر قسم کی صلہ رحمی کروں گا، مگر قیامت کے دن میں چاہتے ہوئے بھی تمہاری مدد نہ کر پاؤں گا۔ لہٰذا مجھے اس اذیت میں مبتلا نہ کرنا اور ایک ذات وحدہ لا شریک پر ایمان لا کر مجھے اللہ تعالیٰ کا پیغمبر تسلیم کر لو۔“
معتبر مؤرخین، مفسرین اور سیرت نگار لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خاندان کو گہرے اثر و تسلط کے ساتھ خطاب فرمایا اور صاف صاف اور وزنی الفاظ میں اعلان فرمایا کہ:
"یا بنی عبدالمطلب!
یا عباس!
یا صفیہ عمۃ رسول اللہﷺ!
یا فاطمہ بنت محمدﷺ!
"تم لوگ آگ کے عذاب سے خود کو بچانے کی فکر کرو! میں خدا کی پکڑ سے تمہیں نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے جو چاہو، مانگ سکتے ہو۔"
یہ تاریخی ارشادات صادر کرنے کے بعد وہ خاموش ہوگئے، لیکن ان کی ہر ایک صدا، ہر ایک لفظ حاضرین کے دل و دماغ پر ایسے گرا جیسے آسمان کی بجلی زمین پر برس پڑے۔ جو چند لمحے قبل اسے صادق و امین کے طور پر جانچ کر مطمئن ہوچکے تھے، وہی اب اس کے مقابلے میں آمادہ ہو گئے، اور اپنے حقیقی اور قریبی رشتہ دار کی زبان نے سبقت اختیار کی، جو چالیس سال پہلے بھائی کے لختِ جگر کی ولادت کی خوشی میں اپنا قیمتی مال، یعنی باندی، آزاد کر چکا تھا۔ مگر اب سب کچھ یکسر تبدیل ہو گیا، اور وہی لوگ جو سینہ تان کر بلند کھڑے تھے، اب بیگانگی اور دشمنی کے شعلوں میں جلتے ہوئے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ پہلا الزام سننے کو ملا، اور وہ بھی اپنے انتہائی قریب ترین رشتے دار، ابو لہب کی تند و تیز زبان سے، جو اس راہِ وفا میں پیش آنے والی پہلی اذیت تھی، جس نے مستقبل کی کٹھنائیوں کی بنیاد رکھی۔
یہی لگتا ہے کہ اس لمحے سب منتشر ہو گئے اور آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے واپس ہوئے مگر صدیوں سے رائج باطل عقائد و فرسودہ افکار پر جو کاری ضرب حق نے لگائی، اُس زخم سے آج تک خون ٹپک رہا ہے۔ اہلِ باطل کی تخلیق کردہ فرسودہ و اختراعی نظریاتی عمارت میں جو دراڑیں صرف یا صباحاہ! یا صباحاہ! کی صدا سے پیدا ہوئیں، ان کے دوبارہ جوڑنے کی انتھک کوشش آج بھی جاری ہے، لیکن کارآمد ثمر ابھی تک برآمد نہیں ہوا۔
اس وقت کے حاضرین، اگرچہ آج کی نسبت زیادہ طاقتور، ہوشیار اور باصلاحیت تھے، مگر وہ بھی اپنی طویل حکمرانی اور انسانوں کے قلب و ذہن پر انگلیوں کی مانند کھیلنے کی مہارت کے باوجود ناکام ہوگئے۔
یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ فطرت جب مسخ ہو جائے تو بہت سے خلاف فطرت امور بھی آسان لگنے لگتے ہیں۔ انسانی اقدار، معاشرتی وقار اور عظمت اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر کمزور ہو جاتی ہیں، جس کی بنیاد پر ان کے اوپر مخلوقات کو مسخر کیا جاتا ہے۔انسانیت پر ظلم و تعدی کا یہ خوفناک دور ختم ہونے کے قریب تھا تو اپنوں نے اپنا زوال دیکھ کر تلواریں تیز کر لیں، بدگوئی اور زبانی درازی کے ہر حربے اپنائے، ہر پروپیگنڈہ استعمال کیا تاکہ کسی طرح رسول اللہ ﷺ کو اس راہ پر چلنے سے روکا جا سکے، لیکن ان کی ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ اور واقعی، وہ صبح ان کے لیے ایک ایسا خطرہ ثابت ہوئی کہ ان کے لیے دوبارہ سر اٹھانا ممکن نہ رہا۔
میری حیات کے لمحے بسر ہوں کچھ ایسے
کبھی درودﷺ لبوں پر ہو تو کبھی سلامﷺ آئے
نوٹ:
بعض متعصب مستشرقین و مغربی مفکرین نے اس واقعے کو قبائلی انتباہ قرار دینے کی کوشش کی ہے، اور اس کے الوہی پیغام کو صرف ایک سماجی اصلاحی نعرہ کہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن کے اعلانِ نبوت اور اتمامِ حجت کا پہلا عملی مظاہرہ تھا۔ اس موقع پر رسول ﷺ کی گرج دار آواز، بلند عزم اور غیر متزلزل موقف نے توحید کے قیام اور شرک کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔
قریش کے ردعمل کو بھی بعض مستشرقین نے موضوعِ بحث بنایا کہ قریش کا ردِعمل اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے سبب تھا، ان کے نزدیک دین کی کوئی حقیقی معنویت نہیں تھی۔ یعنی وہ بیت اللہ کی حفاظت اور خدمت پر مامور تھے جس میں انہوں نے تین سو ساٹھ بت رکھے تھے اور بت پرستی کے اس ناسور سے ان کے معاشی مفادات وابستہ تھے۔ یہ جزوئ وجہ ہوسکتی ہے لیکن کلی طور پر یہ دعویٰ کرنا درست نہیں۔ اگر یہ ردِعمل صرف معاشی تحفظ کا مسئلہ ہوتا تو وہ فوری طور پر کوئی متبادل راستہ اختیار کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کے لئے اصل تشویش توحید کی تھی، جو ان کے باطل معبودوں، اقتدار اور معاشرتی نظام کی جڑیں کاٹ رہی تھی۔
اسلام کی کچھ ابتدائی مخالفت کو مستشرقین محض خاندانی رقابت یا ذاتی رنجش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ معرکہ دراصل "توحید اور شرک" کے درمیان تھا۔ ابو لہب کی مخالفت اسی تناظر میں سامنے آئی، کیونکہ اسلام نے اس کے ذاتی مفادات کو براہِ راست چیلنج کیا۔
نیز مستشرقین بعض اوقات اسلامی دعوت کو محض ایک "انقلابی تحریک" قرار دیتے ہیں جو عربوں کو سیاسی یا معاشی اتحاد کے لیے مذہب کا سہارا دے رہی تھی۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ اسلام صرف سیاسی یا معاشی تحریک نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر مبنی ایک ہمہ گیر دین ہے۔ اسلام کا اصل مقصد قبائلی یا سیاسی اتحاد نہیں بلکہ توحید و وحدانیت کا پرچار، انسانیت کی رہنمائی، اور فطری عدل و انصاف کی تنفیذ ہے۔
