اے میرے سرتاجﷺ!


 اے میرے سرتاجﷺ!

اے روحِ من ﷺ!

اے تاجدارِ دو جہاں ﷺ!

 اے مرقعِ عظمت و رفیقِ جاں ﷺ!

 یہ کیونکر ممکن ہے کہ ربِ کائنات آپﷺ جیسے سرفراز و سربلند کو ناکامی کی وادی میں دھکیل دے؟ اور خالقِ کائنات ایسا کیوں کریں گے؟ جب کہ آپ تو سراپا صلہ رحمی ہیں، آپ کی عطا کی بارش اپنوں اور غیروں، دونوں پر یکساں برستی ہے۔ دبے کچلے انسانوں کے بوجھ کو آپ اپنے ناتواں مگر رحمت کے متحمل کندھوں پر سمیٹ لیتے ہیں۔ بےروزگار کو کسبِ معاش پر لگا دیتے ہیں۔ مہمان کے لیے خوانِ کرم بچھا دیتے ہیں۔ مصیبت زدوں کے لیے سراپا مداوا و سہارا بن جاتے ہیں۔

یہ وہ کلماتِ لعل و گہر تھے جو امی جان حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے اس وقت اپنی زبانِ تسلی سے نکالے جب محسنِ انسانیت ﷺ غارِ حرا کی ہیبت و جلال سے لرزاں و ہراساں تشریف لائے۔ آپ کے جسدِ اقدس پر کپکپی طاری تھی۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے "زمّلونی، زمّلونی" کی صدائیں بلند ہوئیں۔ امی جان حضرت خدیجہؓ نے یہ کیفیت دیکھی تو لرز گئیں کہ آخر یہ ناگہانی ماجرا کیا ہے؟ حضور ﷺ تیز بخار اور خوفِ غیبی کی شدت سے کانپ رہے تھے۔ چادر اوڑھنے کے بعد کچھ دیر میں جب بخار کا زور ٹوٹا اور طبیعت میں افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے امّی جان کو غارِ حرا کا واقعہ بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ 
 "مجھ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے اپنی جان کا خوف لاحق ہوگیا۔"
امّ المؤمنین نے تسلی دیتے ہوئے عرض کیا کہ:
 "یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ ربّ العزّت آپ کو ناکامی کی گرد آلود فضاؤں میں نہیں چھوڑیں گے۔ آپ تو رشتہ جوڑنے والے ہیں، ناداروں کو سہارا دینے والے ہیں، مہمان نوازی کرنے والے ہیں، مصیبت زدہ کے غم بانٹنے والے ہیں۔"

مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اس پر تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فہم و فراست کی مالک اور انتہائی سنجیدہ خاتون تھیں۔ غالب ہے کہ انھیں کتبِ سابقہ یا ان کے علما سے یہ سراغ ملا ہو کہ ایسے کریمانہ اوصاف رکھنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ اسی بصیرت سے انھوں نے رسولِ رحمت ﷺ کو تسلی دی۔

صحیح بخاری و صحیح مسلم کی طویل روایت میں امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
 "بعثتِ نبوی سے قبل محسنِ اعظم ﷺ کے خواب کثرت سے ایسے ہوئے کہ جو کچھ آپ ﷺ دیکھتے وہی عین الواقع رونما ہوتا اور اس میں کسی تاویل یا تعبیر کی حاجت نہ رہتی، بلکہ صبحِ صادق کی طرح واضح جلوہ گر ہوتا۔"

پھر آپ ﷺ میں خلوت گزینی کا شوق پیدا ہوا۔ آپ جبل النور کے دامن میں غارِ حرا کا قصد فرماتے اور کئی کئی شب وہاں قیام فرما کر عبادت میں محو ہوجاتے۔ جب توشہ ختم ہوجاتا تو امی جان حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لاتے اور  زادِ راہ لے کر پھر اسی گوشۂ تنہائی کو آباد کرتے۔

اسی اثنا میں جبرئیلِ امین علیہ السلام نازل ہوئے اور ارشاد  فرمایا کہ: 
"اقرأ!" یعنی پڑھو۔
آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا: 
"ما انا بقاریء!" — میں قاری( پڑھنے والا) نہیں۔
یہ آپ کے امّی ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ مفسرین نے یہاں عجیب دقیق بحثیں کیں۔ بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کو شبہ ہوا کہ شاید فرشتہ کوئی مکتوب یا تحریر پڑھوانا چاہتا ہے، اس لیے اُمّی ہونے کو عذر کے طور پر ذکر فرمایا۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ کے نزدیک فرشتہ وحی کے ابتدائی الفاظ لکھی ہوئی صورت میں لایا تھا، اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ "میں پڑھا ہوا نہیں۔" ورنہ اگر مطلب صرف تلاوت دہرانے کا ہوتا تو یہ عذر بےمحل ہوتا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "میرے جواب پر جبرئیل علیہ السلام نے مجھے آغوش میں لے کر اتنا دبایا کہ جان نکلنے کو آئی۔ پھر چھوڑ دیا اور دوبارہ ارشاد فرمایا کہ: اقراء۔ میں نے وہی جواب دیا۔ دوسری بار بھی یہی ہوا۔ تیسری بار پھر آغوش میں دبایا اور کہا:
 اقرأ باسم ربک الذی خلق…"

یہ واقعہ سن کر امی جان حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو جاہلیت ہی میں بت پرستی سے تائب ہوکر نصرانی بن گئے تھے۔ جب حضور ﷺ نے ماجرا بیان فرمایا تو ورقہ بے ساختہ بولے:
 "یہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔"

یوں وحی کا آغاز ہوا۔ اولین حکم یہی تھا: اقرأ! گویا اسلام کی ابتدا ہی میں یہ صدا بلند ہوئی کہ پڑھنا اور پڑھانا خیرِ محض اور عملِ محمود ہے۔

امی خدیجہؓ کے یہ الفاظ آج بھی تا قیامت انسانیت کے لیے منشورِ تسلی ہیں کہ بااخلاق و مہربان شخص کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ جو جوڑنے والا ہے دنیا اس کے آگے سراپا تعظیم جھک جاتی ہے۔ اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اعلان کریں:

"مکمل و اکمل انسان، رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں۔"

خدایا! عشقِ محمد ﷺ میں ہمیں وہ درجہ عطا ہو
کہ سانس بعد میں آئے اور پہلے نامِ محمد ﷺ لبوں پر آئے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی