بےچینی و اضطراب کے بادل فضا پر چھا گئے تھے، انسانی معاشرہ غیر یقینی کیفیت کے بھنور میں ڈوب چکا تھا اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ بس ابھی نظامِ عالم پارہ پارہ ہوجائے گا، وہ مخلوق، جسے قوانینِ الٰہیہ کے نفاذ کا ضامن بنایا گیا تھا، وہ انہی قوانین کی بڑی مخالف اور سب سے بڑی رقیب بن کر سامنے آئی، تو اس لمحۂ تاریخ میں گویا دو ہی امکانات باقی رہ گئے تھے: یا تو بنی نوعِ انسان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا، یا پھر اس کی اصلاح و تربیت کے لیے ایک ایسے پیکرِ کمال کو مبعوث کیا جاتا جو قرون کی کثافتوں کو دھو ڈالے اور زمین پر زندگی کو از سرِ نو ممکن بنادے۔ اول الذکر امکان سراسر تباہی و ہلاکت کا تھا، جس کی آرزو کوئی صاحبِ عقل نہیں کرسکتا تھا، اور ثانی الذکر تعمیر و ترقی کا دروازہ تھا، جس کی تمنا فطرتِ سلیمہ رکھنے والے دلوں کی آرزو بن چکی تھی۔
اس زمانے میں کوئی برائی ایسی نہ تھی جو معاشرتی ڈھانچے میں رچ بس نہ گئی ہو۔ جھوٹ اور فریب کے بغیر بازاروں میں لین دین کا تصور ہی محال تھا؛ خونریزی کا یہ عالم تھا کہ ایک قتل کے بدلے خون کی ندیاں بہانا شجاعت اور غیرت شمار ہوتا۔ ایک خدا پر ایمان لانا انسانیت کی توہین سمجھا جاتا اور تین سو ساٹھ بتوں کی پرستش کو کامیابی و سعادت کی ضمانت قرار دیا جاتا۔ خانۂ کعبہ، جو توحید کی تجلیات کا مرکز تھا، طرح طرح کی اعتقادی نجاستوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ طبقاتی استحصال کی بدولت امیر، امیر تر اور غریب غربت کی چکّی میں پس کر بے بس ہوچکا تھا۔ سیاسی اعتبار سے مختلف خداؤں کے نام پر حکمرانوں نے وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا اور آزاد انسانیت کو ذہنی و فکری غلامی کے طوق میں جکڑ دیا تھا، یہاں تک کہ غلامی کو ہی قانونِ فطرت سمجھ لیا گیا۔ سماجی عزت و شرف کا معیار کثرتِ اولادِ ذکور، آلاتِ حرب و ضرب اور زر و مال کے انبار تھے۔ عورت کو باعثِ عار سمجھا جاتا، یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش کو اتنی بڑی رسوائی مانا گیا کہ زندہ درگور کرنے کی قبیح رسم اپنے عروج پر تھی۔ معمولی سے معمولی واقعات پر بھی جنگ و جدال بھڑک اٹھتے اور نسلوں تک جاری رہتے۔ انسانی خون پانی کی طرح بہایا جارہا تھا اور کوئی قوت روکنے والی نہ تھی۔ ایسے حالات میں مصلح کا وجود ہی جرم سمجھا جاتا اور جو حق کی بات کہتا وہ گویا اپنی موت کو دعوت دیتا۔
انہی ہولناک لمحوں میں قدرت کا قانون حرکت میں آیا، اور کائنات نے اُس محسنِ انسانیت ﷺ کی آمد کا مژدہ سنا، جو پیکرِ تقدس، شعاعِ حرم، آفتابِ ہدایت، آئینۂ حسنِ ارض و سماوات، ہادیِ کل، ختمِ رسل، رحمتِ پیہم، مقصدِ تخلیقِ زماں و مکاں، سالارِ قافلۂ بنی آدم اور سرورِ کائنات ہیں۔ ان کی ولادت باسعادت کی خبر نے ارض و سما کے گوشے گوشے کو نئی زندگی بخشی، سورج کے طلوع و غروب کا سلسلہ برقرار رہا، دریا و جھیلوں کی رونقیں بحال ہوئیں، پہاڑوں کی چوٹیوں سے پانی بہہ کر دریاؤں میں اترنے لگا، پرندوں کی نغمگی فضاؤں میں گونجنے لگی، اور گویا قیامت کی گھڑی مؤخر ہوگئی، تا آنکہ یہ محسنِ اعظم ﷺ زمین کو امن و سکون کی روشنی سے منور نہ کر دیں۔
محسنِ اعظم ﷺ والد ماجد کے سایۂ عاطفت سے محروم پیدا ہوئے، مگر یتیموں کے سہارا بنے۔ چھ سال کی عمر میں والدۂ ماجدہ کی جدائی نے آپ کو ایک ویران و سنسان میدان میں بے سہارا کردیا، مگر آپ اس یتیمی میں بھی عام یتیم نہ تھے، بلکہ عالمِ بالا کی تجلیات کے زیرِ پرورش تھے۔ دادا اور چچا کی سرپرستی بظاہر آپ کی تربیت کے اسباب تھے، مگر حقیقت میں آپ کا نگہبان خود ربِ کائنات تھا۔
چالیس برس کی عمر میں جب آپ ﷺ پر نبوت کا بارِ عظیم رکھا گیا تو مصائب و آلام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ کفارِ مکہ نے ایذا رسانی کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آپ ﷺ کو اپنے آبائی شہر سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ دیرینہ ساتھیوں کو خون کے آنسو رلائے گئے، لیکن وہ پہاڑوں جیسے ثابت قدم رہے۔ مدینہ منورہ میں بھی دشمنانِ دین نے زہر افشانی جاری رکھی، مگر پیکرِ صبر و استقامت ڈٹا رہا۔ صرف تئیس برس میں آپ ﷺ نے صدیوں کی کثافتیں دھو ڈالیں۔
اور جب مکہ مکرمہ میں بحیثیت فاتح داخل ہوئے تو منظر یہ تھا کہ سر پر سیاہ عمامہ، دل و زبان پر توحید کے نغمے اور نگاہیں عجز و انکساری سے جھکی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان دشمنوں کو بھی معاف کردیا جنہوں نے کانٹے بچھائے تھے، اذیتیں دی تھیں، اور آپ کو جلاوطن کیا تھا۔ نہ کسی سردار کو سولی پر لٹکایا، نہ کسی اذیت رساں کو عتاب کا نشانہ بنایا، بلکہ بعض کو عزت و انعام سے نوازا۔ یوں تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ فاتح اپنے دشمنوں کو بھی بخش دیتا ہے۔
افسوس! آج بھی یہ سوال باقی ہے: وہ کون سی راہ ہے جس پر محسنِ انسانیت ﷺ نے ہمیں رہنمائی نہ دی؟ کون سا دریا ہے جس کی موجوں کو آپ نے ضابطے نہ بخشے؟ کون سا گوشۂ حیات ہے جسے آپ ﷺ کے واضح ارشادات سے بے بہرہ چھوڑا گیا؟ لیکن صد افسوس! ہم پھر بھی بھٹک رہے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے بجا شکوہ کیا ہے کہ:
”آہ! اگر اس مہینے کی آمد تمہارے لیے جشن و مسرت ہے کہ اسی میں وہ آئے جنہوں نے ہمیں سب کچھ عطا کیا، تو میرے لیے یہ مہینہ ماتم کا ہے، کہ اسی میں ہم نے وہ سب کچھ کھو دیا جو ہمیں ملا تھا۔ یہ ماہ اگر ایک طرف بخشش کرنے والے کی یاد دلاتا ہے تو دوسری طرف کھونے والوں کے زخم کو بھی تازہ کردیتا ہے!“
درحقیقت ہم وہ سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں جو محسنِ اعظم ﷺ نے ہمیں دیا تھا۔ ہم نے اپنے رہنما کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کی پیروی شروع کردی ہے جو فطرت سے عاری اور انسانیت سے کورے ہیں۔ یہ مقدس مہینہ ہمیں جھنجھوڑنے آیا ہے کہ جہاں تک بھٹک گئے ہو وہیں سے لوٹ آؤ، اور محسنِ انسانیت ﷺ کے مبارک طریقے پر چل پڑو، وہی راہ فلاح و نجات کی راہ ہے، جس میں نہ ٹھوکریں ہیں، نہ گمراہی؛ سراسر نور، سلامتی اور کامیابی ہے۔
