سیموئل پی۔ ہنٹنگٹن (Samuel P. Huntington) ایک مشہور امریکی سیاسی سائنسدان اور ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر تھے جنہوں نے 1993 کو فارن افیئرز میں ایک آرٹیکل لکھا جس کی وجہ اس وقت ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔اس آرٹیکل میں ہنٹنگٹن نے یہ دعویٰ کیا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا میں جنگ کی جہت مختلف ہوگئی اور اب مزید جنگیں تہذیبوں کے تصادم کی وجہ سے ہوگی نہ کہ سیاسی و نظریات کے بنیاد پر ۔
ہنٹنگٹن نے لکھا کہ سرد جنگ کے اختتام نے دنیا کو ایک نئے سیاسی اور فکری مرحلے میں داخل کیا۔ ماہرینِ سیاست و فکر نے اس دور کی تعبیر کے لیے مختلف نظریات پیش کیے: کوئی اسے ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ قرار دیتا ہے، کوئی ’’قوموں کے درمیان روایتی دشمنیوں کی واپسی‘‘ سے تعبیر کرتا ہے، جبکہ کچھ اہلِ نظر ’’قوم ریاست‘‘ کے زوال کی بات کرتے ہیں اور اسے مقامی عصبیت (Tribalism) اور عالمی رجحان (Globalism) کی کشمکش سے جوڑتے ہیں۔ یہ سب نظریات اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی حد تک حقیقت کو بیان کرتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا بنیادی محرک اور تنازعہ کس بنیاد پر ہوگا؟
مرکزی مفروضہ
انہوں نے اس آرٹیکل میں یہ مفروضہ قائم کیا کہ اس نئی دنیا میں تنازعے کی اصل بنیاد نہ تو صرف معیشت ہوگی اور نہ ہی محض سیاست یا نظریات، بلکہ انسانوں کے درمیان موجود سب سے بڑی تقسیم یعنی ثقافت اور تہذیب مستقبل کے عالمی تصادم کی اصل جڑ ہوگی۔ قوم ریاستیں عالمی سیاست میں اپنا کردار ضرور ادا کرتی رہیں گی لیکن بڑے تصادم تہذیبی بنیادوں پر ابھریں گے۔یوں تہذیبوں کے درمیان سرحدیں ہی آئندہ جنگوں اور عالمی کشمکش کی حقیقی لکیر ثابت ہوں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرد جنگ کے دوران دنیا کو ’’پہلی، دوسری اور تیسری دنیا‘‘ کی درجہ بندی میں بانٹا جاتا تھا۔ یہ تقسیم اُس وقت سیاسی و نظریاتی تقاضوں کو بیان کرتی تھی، لیکن آج کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں یہ تقسیم اپنی معنویت کھو بیٹھی ہے۔ اب زیادہ موزوں طریقہ یہ ہے کہ ریاستوں اور معاشروں کو محض ان کے سیاسی و معاشی نظام یا ترقی کے پیمانوں پر پرکھنے کے بجائے تہذیب اور ثقافت کی بنیاد پر سمجھا اور گروہ بند کیا جائے۔
تہذیب کی تعریف اور دائرہ کار:
ان کے ہاں تہذیب کو ایک جامع ثقافتی وحدت کہا جا سکتا ہے، جو انسانی شناخت کی سب سے وسیع اور سب سے بلند ترین اکائی ہے۔ اگرچہ نسلی گروہ، قومیتیں، علاقے اور مذہبی برادریاں اپنی اپنی مخصوص ثقافتیں رکھتی ہیں، لیکن یہ سب آخرکار ایک بڑے تہذیبی دائرے کا حصہ بنتی ہیں۔مثال کے طور پر جنوبی اور شمالی اٹلی کے گاؤں ثقافتی فرق رکھتے ہیں، لیکن دونوں ایک بڑی ’’اطالوی ثقافت‘‘ میں شریک ہیں۔ یہ اطالوی ثقافت خود یورپی ثقافت کا حصہ ہے، جو اسے عرب یا چینی ثقافت سے ممتاز کرتی ہے۔یوں ہر تہذیب انسانی ثقافت کی سب سے بڑی وحدت ہے، جو انسان کو دوسری نوعوں سے ممتاز کرتی ہے۔
ہنٹنگٹن کے ہاں تہذیب کی تعریف دو بنیادوں پر کی جا سکتی ہے:
1. معروضی عناصر — زبان، تاریخ، مذہب، رسم و رواج، ادارے۔
2. ذاتی و اجتماعی شعور — وہ احساسِ شناخت جو افراد اپنی تہذیب سے وابستگی کی صورت میں رکھتے ہیں۔
شناخت کی مختلف سطحیں:
اسی آرٹیکل میں ہنٹنگٹن نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ انسان کی شناخت کے کئی درجے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر روم کا ایک باشندہ اپنی شناخت یوں بیان کر سکتا ہے:
وہ رومی ہے،
اطالوی ہے،
کیتھولک ہے،
مسیحی ہے،
یورپی ہے،
اور آخر میں ’’مغربی‘‘ تہذیب کا حصہ ہے۔
ان سطحوں میں سب سے وسیع اور مضبوط رشتہ ’’تہذیب‘‘ ہے، جو فرد کو اپنی تاریخ اور ثقافت سے گہری وابستگی عطا کرتا ہے۔
تہذیبوں کے باہمی اثرات اور ارتقاء:
تہذیبیں جامد نہیں ہوتیں بلکہ متحرک اور ارتقائی فطرت رکھتی ہیں۔وہ بسا اوقات ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں،ان کے اندر ذیلی تہذیبیں وجود میں آتی ہیں، وہ عروج و زوال کے ادوار سے گزرتی ہیں،اور تاریخ کی ریت پر فنا بھی ہو جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر مغربی تہذیب کی دو بڑی شاخیں ہیں: یورپی اور شمالی امریکی۔اسلامی تہذیب بھی مختلف ذیلی حصوں میں تقسیم ہے، جیسے عرب، ترک اور ملائی (Malay)۔
اس کے باوجود، تہذیبیں ایک حقیقی اور بامعنی حقیقت ہیں، جن کی سرحدیں دھندلی ضرور ہوتی ہیں مگر مٹتی نہیں۔ مغربی مفکرین عموماً قوم ریاست کو عالمی سیاست کا مرکزی کردار سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قوم ریاست کا یہ کردار صرف چند صدیوں پر محیط ہے۔ انسانی تاریخ کی وسیع کائنات اصل میں تہذیبوں کی تاریخ ہے۔ برطانوی مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee) نے اپنی مشہور کتاب A Study of History میں اکیس بڑی تہذیبوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں سے آج صرف چھ زندہ ہیں۔ یہ بات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تہذیبیں نہ صرف انسانوں کی اجتماعی شناخت کا سرچشمہ ہیں بلکہ عالمی سیاست اور انسانی تاریخ کے بنیادی کردار بھی ہیں۔
تہذیبیں کیوں ٹکرائیں گی؟
تہذیبی شناخت مستقبل میں دن بہ دن زیادہ اہم ہوتی جائے گی، اور دنیا بڑی حد تک سات یا آٹھ بڑی تہذیبوں کے مابین تعاملات سے تشکیل پائے گی۔ ان میں شامل ہیں: مغربی (Western)، کنفیوشیائی (Confucian)، جاپانی (Japanese)، اسلامی (Islamic)، ہندو (Hindu)، سلاوی۔آرتھوڈوکس (Slavic-Orthodox)، لاطینی امریکی (Latin American) اور ممکنہ طور پر افریقی (African) تہذیب۔ مستقبل کے سب سے اہم تنازعات انہی تہذیبوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والی ثقافتی سرحدوں پر رونما ہوں گے۔
یہ کیوں ہوگا؟
اوّل: حقیقی و بنیادی فرق:
تہذیبوں کے درمیان فرق صرف حقیقی ہی نہیں بلکہ بنیادی بھی ہیں۔ یہ فرق تاریخ، زبان، ثقافت، روایت اور سب سے بڑھ کر ’’مذہب‘‘ کی بنیاد پر ہیں۔ مختلف تہذیبوں کے لوگ خدا اور انسان کے تعلق، فرد اور گروہ کے تعلق، شہری اور ریاست کے تعلق، والدین اور بچوں کے تعلق، شوہر اور بیوی کے تعلق، اور اسی طرح حقوق و فرائض، آزادی و اختیار، مساوات و درجہ بندی کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں۔ یہ اختلافات صدیوں کے پیدا کردہ ہیں اور یہ جلد ختم نہیں ہوں گے۔ یہ اختلافات سیاسی نظریات یا نظاموں کے درمیان فرق سے کہیں زیادہ بنیادی ہیں۔ اختلاف ہمیشہ تصادم کا مطلب نہیں ہوتا اور تصادم ہمیشہ تشدد تک نہیں پہنچتا۔ لیکن صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے درمیان اختلافات نے سب سے طویل اور سب سے خونریز جنگوں کو جنم دیا ہے۔
دوم: تہذیبی شعور کا احیاء
دنیا سکڑتی جارہی ہے۔ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین روابط بڑھ رہے ہیں۔ یہ روابط تہذیبی شعور کو تیز کرتے ہیں اور مختلف تہذیبوں کے درمیان فرق اور ایک تہذیب کے اندر مشترکات کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔مختلف تہذیبوں کے لوگوں کے درمیان روابط تہذیبی شعور کو بڑھاتے ہیں، جو بدلے میں اختلافات اور پرانی دشمنیوں کو تازہ دم کرتا ہے، جنہیں صدیوں پرانی تاریخ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
سوم: تہذیبی اتحاد:
دنیا بھر میں معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کے عمل نے انسانوں کو اُن کی پرانی اور مقامی شناختوں سے دور کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قوم ریاست کی حیثیت بھی شناخت کے ایک ماخذ کے طور پر کمزور پڑ رہی ہے۔ دنیا کے بیشتر خطوں میں اس خلا کو مذہب نے پُر کیا ہے، جو اکثر ’’بنیاد پرستی‘‘ کہلانے والی تحریکوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسی تحریکیں مغربی عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور ہندو مت کے ساتھ ساتھ اسلام میں بھی موجود ہیں۔ بیشتر ملکوں اور مذاہب میں ان تحریکوں کے فعال کارکن نوجوان، اعلیٰ تعلیم یافتہ، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ٹیکنیشن، پروفیشنلز اور کاروباری حضرات ہیں۔ جارج ویگل نے کہا ہے کہ ’’دنیا کی غیرسیکولرائزیشن بیسویں صدی کے آخری دور کی سب سے نمایاں سماجی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘ گیلز کیپل نے جسے ’’خدا کی واپسی‘‘ (La revanche de Dieu) کہا، وہ ایک ایسی نئی بنیاد فراہم کرتی ہے جو قومی سرحدوں سے بلند ہوکر تہذیبوں کو متحد کرتی ہے۔
چہارم: اپنی اصل شناخت کی طرف واپسی:
دنیا میں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہو گیا ہے جسے "مغرب کا دوہرا کردار" کہا جا سکتا ہے۔ ایک طرف مغرب اپنی طاقت کی انتہا پر ہے، لیکن ساتھ ہی غیر مغربی تہذیبوں میں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے کا رجحان پیدا ہورہا ہے۔ جاپان میں ’’ایشینائزیشن‘‘ (Asianization) کی اصطلاح سننے کو مل رہی ہے، بھارت میں’’ہندوائزیشن‘‘ (Hinduization) کے بڑھتے اثرات کا ذکر ہے، مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تصوراتِ سوشلسٹ اور قوم پرستی کی ناکامی کے بعد ’’ری اسلامائزیشن‘‘ (Re-Islamization) کا رجحان ہے،اور یوں اپنی طاقت کی انتہا پر کھڑا مغرب ایسے غیر مغربوں کا سامنا کررہا ہے جن کے پاس دنیا کو غیر مغربی طریقوں سے ڈھالنے کی خواہش، عزم اور وسائل سب موجود ہیں۔
ماضی میں غیر مغربی معاشروں کی اشرافیہ وہ لوگ ہوتے تھے جو مغرب سے سب سے زیادہ جُڑتے، آکسفورڈ اور دیگر مغربی اداروں سے تعلیم یافتہ ہوتے اور مغربی اقدار و رویّوں کو جذب کرچکے ہوتے۔ لیکن عوام اپنی مقامی ثقافت سے گہرا تعلق رکھتے۔ اب یہ رشتہ الٹ رہا ہے۔ بہت سے غیر مغربی ممالک میں اشرافیہ مغربیت سے دور ہوکر اپنی مقامی تہذیبی جڑوں کی طرف لوٹ رہی ہے، جب کہ عوامی سطح پر مغربی (خصوصاً امریکی) ثقافت، طرزِ زندگی اور عادات زیادہ مقبول ہورہی ہیں۔
پنجم: ثقافتی خصوصیات اور اختلافات:
ثقافتی خصوصیات اور اختلافات، سیاسی اور معاشی اختلافات کی نسبت زیادہ غیر متبدل ہوتے ہیں اور ان پر سمجھوتہ کرنا بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ سابقہ سوویت یونین میں کمیونسٹ جمہوریت پسند بن سکتے ہیں، امیر غریب ہوسکتے ہیں اور غریب امیر بن سکتے ہیں، لیکن روسی ایسٹونین نہیں بن سکتے اور آذری آرمینی نہیں بن سکتے۔ طبقاتی اور نظریاتی تنازعات میں اصل سوال یہ تھا: ’’آپ کس کے ساتھ ہیں؟‘‘ اور لوگ اپنی مرضی سے فریق بدل سکتے تھے۔ لیکن تہذیبی تنازعات میں سوال یہ ہوتا ہے: ’’آپ ہیں کیا؟‘‘ اور اس سوال کا جواب طے شدہ ہوتا ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا۔ جیسا کہ ہم بوسنیا سے قفقاز اور سوڈان تک دیکھتے ہیں کہ اس سوال کا ’’غلط جواب‘‘ سر پر گولی کا سبب بن سکتا ہے۔ نسلی اختلافات سے بھی بڑھ کر مذہب انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز کرتا ہے۔ کوئی شخص آدھا فرانسیسی اور آدھا عرب ہوسکتا ہے اور بیک وقت دو ممالک کی شہریت بھی رکھ سکتا ہے۔ لیکن آدھا کیتھولک اور آدھا مسلمان ہونا بہت مشکل ہے۔
ششم: علاقائی معاشی رجحانات
علاقائی معاشی رجحانات (Economic Regionalism) بڑھ رہے ہیں اور مستقبل میں علاقائی معاشی اتحاد کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ ایک طرف کامیاب علاقائی معاشی رجحانات تہذیبی شعور کو تقویت دیتے ہیں۔ دوسری طرف یہ اتحاد اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب وہ ایک مشترکہ تہذیب کی بنیاد پر قائم ہوں۔ یورپی برادری (European Community) یورپی ثقافت اور مغربی عیسائیت کی مشترکہ بنیاد پر کھڑی ہے۔ شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے (NAFTA) کی کامیابی میکسیکو، کینیڈا اور امریکا کی ثقافتوں کے بڑھتے ہوئے ہم آہنگی پر منحصر ہے۔اس کے برعکس جاپان مشرقی ایشیا میں ایسا ہی اتحاد قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے کیونکہ جاپان اپنی نوعیت میں منفرد معاشرہ اور تہذیب ہے۔ اگرچہ جاپان دوسرے مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے گہرے تعلقات قائم کرسکتا ہے، لیکن ثقافتی اختلافات علاقائی انضمام میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس کے برعکس، مشترکہ ثقافت نے عوامی جمہوریہ چین کے ہانگ کانگ، تائیوان، سنگاپور اور دوسرے ایشیائی ملکوں میں موجود چینی برادریوں کے ساتھ تیز رفتار معاشی تعلقات کو آسان بنایا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ثقافتی مشترکات نے نظریاتی اختلافات پر غلبہ پانا شروع کردیا ہے، اور مین لینڈ چین اور تائیوان ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ اگر معاشی انضمام کے لیے ثقافتی ہم آہنگی شرط ہے تو مستقبل کا سب سے اہم مشرقی ایشیائی معاشی بلاک غالباً چین کے گرد مرکوز ہوگا—اور درحقیقت یہ بلاک وجود میں آنا شروع ہوچکا ہے۔
سیموئل پی۔ ہنٹنگٹن کا 1993ء میں شائع ہونے والا یہ مضمون "Clash of Civilizations" عالمی سطح پر غیر معمولی بحث و مباحثے کا باعث بنا۔ اس مضمون نے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین، پالیسی سازوں اور عوامی حلقوں میں نئے سوالات کو جنم دیا۔ مختلف تہذیبوں کے درمیان ممکنہ تصادم کے اس تصور پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ اسی گہری دلچسپی اور تنقید کے باعث ہنٹنگٹن نے اپنے خیالات کو مزید تفصیل، دلائل اور مثالوں کے ساتھ پیش کرنے کے لیے 1996ء میں کتاب "The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order" تصنیف کی، جو آج بھی عالمی سیاست پر بحث کا ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
Tags:
معاصر افکار
