
اسلام ایک ایسا دین ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی فلاح کا ضامن ہے۔ اس کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت کے وقت ان کی مدد کرنا دینی و ایمانی تقاضا ہے۔
قرآنِ مجید میں للہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
"مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
اس قرآنی اعلان نے مسلمانوں کے تعلق کو صرف رسمی یا نسلی رشتے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے حقیقی اخوت اور بھائی چارے کا درجہ دیا ہے۔ جب مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو لازمی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ضرورتوں، خوشیوں اور غموں میں شریک ہوں۔احادیثِ نبویہ میں بھی اس پہلو کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
"مؤمنین کی مثال محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"
یعنی مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر کسی ایک پر مصیبت آئے تو باقی سب پر لازم ہے کہ اس کے غم اور دکھ کو محسوس کریں اور اس کے ازالے کی کوشش کریں۔
سیلاب زدگان کی امداد:
قدرتی آفات انسان کے بس سے باہر ہیں۔ جب زمین لرزتی ہے، بارشیں طغیانی اختیار کرتی ہیں اور دریاؤں کا پانی بستیاں بہا لے جاتا ہے، تو انسان کی کمزوری اور بے بسی کھل کر سامنے آتی ہے۔ انہی لمحات میں معاشرے کے اصل کردار اور باہمی تعاون کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے جس کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں۔گزشتہ دنوں بونیر، باجوڑ، سوات اور اب صوابی کی وادیاں ایک ہولناک منظر کی گواہ بنیں۔ بارشوں کے طوفانی ریلے اور دریاؤں کی بے قابو موجیں گھروں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئیں۔ ہنستے بستے دیہات لمحوں میں کھنڈرات میں بدل گئے۔ کھڑی فصلیں غرق ہو گئیں، چھتیں گر گئیں، اور جانے کتنے معصوم خواب پانی کے شور میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے۔ وہ منظر جس میں بچے ماں کی گود ڈھونڈتے ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کی لاشوں سے لپٹ کر نوحہ کناں ہوتی ہیں، اور بوڑھے اپنی بقیہ زندگی کی امیدوں کو ملبے میں تلاش کرتے ہیں، یہی وہ وقت ہے جب انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
ہم سیلاب زدگان کی مدد کیوں کریں ؟
یہ سوال اہم ہے کیونکہ ہم آج اگر ان کی مدد کر رہے ہیں تو ہمیں اس عمل کی اہمیت و افادیت معلوم ہو۔ ہم سیلاب زدگان کی مدد اس لیے کریں کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ جب ایک بستی طغیانی کی نذر ہو جائے، گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو جائیں، بچے یتیمی کے اندھیروں میں ڈوب جائیں اور مائیں اپنے خوابوں کی قبریں ڈھونڈتی پھریں، تو یہ لمحہ دراصل ہم سب کے ضمیر کو پکار رہا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں، ایک عضو دکھے تو پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے۔ اس لیے متاثرہ بھائیوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا دراصل قرآنی حکم اور نبوی تعلیم کی عملی تفسیر ہے۔ پھر یہ امداد ہمارے معاشرے کی روح کو زندہ رکھنا کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جس قوم کے افراد ایک دوسرے کے غم بانٹیں، وہی قوم مشکلات کے مقابلے میں سرخرو رہتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں مدد کی نوعیت:
ہم سب مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ جاننا اہم ہے کہ موجودہ صورتحال میں مدد کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے ہزاروں خاندانوں کو کھلے آسمان تلے لا کھڑا کیا ہے۔ نہ چھت میسر ہے نہ چولہا جلانے کو ایندھن۔ بچے بھوک اور بیماری کے ہاتھوں نڈھال ہیں، مائیں اضطراب اور بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہیں، اور بوڑھے اپنی عمر بھر کی کمائی کو ملبے میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ان حالات میں مدد کی نوعیت ایک ہمہ جہتی کردار کی صورت اختیار کر گئی ہے۔سب سے پہلے ضرورت ہے زندگی بچانے والی امداد کی؛ یعنی صاف پانی، خوراک، کپڑے اور عارضی رہائش۔ یہ وہ بنیادی سہولتیں ہیں جن کے بغیر متاثرہ انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔
اس کے بعد آتی ہے صحت اور علاج کی فراہمی کی ذمہ داری۔ سیلاب کے بعد پھیلنے والی وبائیں اور امراض ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آتے ہیں۔ ایسے وقت میں طبی سہولتیں دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بعد حتمی مرحلے میں روزگار کی بحالی آتی ہے جو انتہائی نہایت اہم بھی ہے۔کیونکہ ان کے کھیت برباد ہو گئے، دکانیں بہہ گئیں، چھوٹی صنعتیں ڈوب گئیں—ان سب کا متبادل فراہم کرنا معاشرتی بحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔
ان حالات میں سب سے بڑھ کر مدد یہ ہے کہ ان متاثرین کو حوصلہ اور ساتھ دیا جائے۔ بسا اوقات ایک پرخلوص دلجوئی اور تسلی، بھاری بھرکم امداد سے بھی زیادہ قیمتی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنے دکھ میں خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا تو اس کی بقا کی امید تازہ ہو جاتی ہے۔
اگر امداد نہ کی گئی تو:
یہ واضح رہے کہ اگر سیلاب زدگان کی امداد نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف متاثرہ خاندانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے معاشرے پر تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ کہ غربت اور بھوک کی شدت مزید بڑھ جائے گی۔ وہ لوگ جن کے کھیت اور مکانات پانی بہا لے گئے، اگر سہارا نہ ملا تو وہ ہمیشہ کے لیے محتاجی کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے، اور یہ محرومی ایک مستقل سماجی زخم بن کر رہ جائے گی۔
دوسرا پہلو صحت اور صفائی کا ہے۔ امداد نہ ہونے کی صورت میں بیماریاں اور وبائیں تیزی سے پھیلیں گی، اور ایک خطے کی بیماری پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایک چھوٹا سا جراثیم اگر قابو سے نکل جائے تو بڑے بڑے شہروں کی فضا کو بھی زہر آلود بنا سکتا ہے۔
تیسرا پہلو سماجی ہم آہنگی کا ہے۔ اگر سیلاب زدہ خاندان اپنے ہی بھائیوں کو بے حس اور بے پروا پائیں گے تو ان کے دلوں میں محرومی کے بیج بوئے جائیں گے۔ یہ محرومی بعد میں معاشرتی تقسیم میں ڈھل سکتی ہے۔آخر میں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امداد نہ کرنا دراصل اس باہمی تعاون کے اصول کو توڑ دینا ہے جو معاشرتی بقا کی بنیاد ہے۔ معاشرے کا حسن اس میں ہے کہ وہ اپنے کمزور افراد کو سہارا دے، اور اگر یہ پہلو ختم ہو گیا تو معاشرہ محض ایک ہجوم بن کر رہ جائے گا، جس میں نہ اعتماد باقی رہتا ہے اور نہ اخوت۔