اسلامی فکری روایت میں اجتہاد و تقلید:
اسلامی فکری روایت میں اجتہاد اور تقلید دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صدیوں سے علمی مباحث، فقہی تشکیل اور دینی عمل کی سمت متعین کرتے آئے ہیں۔ یہ دونوں فقہی اصطلاحات ، ایک پورے علمی نظامِ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں عقل، نص، روایت اور ذمہ داری باہم مربوط ہو کر کام کرتے ہیں۔ مگر عصرِ حاضر میں، جب ہر فرد خود کو رائے دینے کا مجاز سمجھنے لگا ہے اور علم و جہل کے درمیان امتیازی سرحدیں دھندلا چکی ہیں، اجتہاد اور تقلید کا مسئلہ ایک نئی کشمکش کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ایک طرف اجتہاد کو مطلق آزادیِ فکر کے ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں نصوص، اصول اور علمی اہلیت کی قید غیر ضروری سمجھی جاتی ہے؛ اور دوسری جانب تقلید کو جمود، اندھی پیروی اور فکری تعطّل کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔ اس فکری انتشار نے نہ صرف عام مسلمان کو تذبذب میں مبتلا کیا ہے بلکہ دینی اتھارٹی، فقہی تسلسل اور علمی وقار جیسے تصورات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد اور تقلید، بلکہ ایک ہی علمی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔ اجتہاد جہاں اعلیٰ درجے کی علمی اہلیت، گہری بصیرت اور اصولی مہارت کا تقاضا کرتا ہے، وہیں تقلید عام مسلمان کے لیے سہولت، تحفظ اور دینی استقامت کا ذریعہ ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن ہی وہ راستہ ہے جو امت کو فکری افراط و تفریط سے بچا سکتا ہے۔
یہ مضمون اسی توازن کی تلاش کی ایک کوشش ہے، جس میں ہم یہ سمجھنے کی سعی کریں گے کہ معاصر ذہن اجتہاد اور تقلید کو کن غلط فہمیوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے، ان کی اصل علمی حدود کیا ہیں، اور آج کے دور میں ان کا درست اور ذمہ دارانہ فہم کس طرح ممکن ہے؟
اجتہاد: مفہوم، مقام اور علمی شرائط
اجتہاد لغوی اعتبار سے پورے زور، انتہائی کوشش اور فکری توانائی صرف کرنے کو کہتے ہیں یعنی کسی مشکل کام کو حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کرنا، جبکہ اصطلاحِ شرع میں اس سے مراد یہ ہے کہ:
کوئی صاحبِ اہلیت مجتہد، کتاب و سنت، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کسی ایسے مسئلے کا شرعی حکم متعین کرے جس پر صریح نص موجود نہ ہو۔
یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ اجتہاد ہر شخص کا حق نہیں بلکہ یہ ایک بھاری علمی ذمہ داری ہے، جس کے لیے محض ذہانت یا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل فقہی و اصولی نظام میں مہارت درکار ہوتی ہے۔
اجتہاد کی بنیادی شرائط
ائمہ اصولیین کے نزدیک اجتہاد کے لیے درج ذیل شرائط ناگزیر ہیں:
-
قرآنِ کریم کے احکام، ناسخ و منسوخ اور دلالات کا فہم
-
احادیثِ نبویہ ﷺ، ان کے درجات، اسانید اور فقہی تطبیقات سے واقفیت
-
اصولِ فقہ پر مضبوط دسترس
دلائل میں تخصیص، تقیید وغیرہ کی معرفت
عربی زبان، اسالیب اور بلاغت کا اعلیٰ ذوق
-
مقاصدِ شریعت اور فقہی مزاج سے ہم آہنگی
-
تقویٰ، دیانت اور فکری احتیاط
ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد رائے زنی نہیں بلکہ ایک منضبط علمی عمل ہے، جو اہلِ علم کے مخصوص طبقے تک محدود رہا ہے۔
تقلید: حقیقت، ضرورت اور فکری تحفظ
تقلید کو ہمارے عہد میں عموماً اندھی پیروی کا ہم معنی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یوں اسے فکری جمود، ذہنی تعطّل اور شعوری غلامی کا استعارہ قرار دے کر ردّ کر دیا جاتا ہے، حالانکہ فقہی اصطلاح میں تقلید کا مفہوم نہایت سنجیدہ، معقول اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ فقہاءِ اسلام کے نزدیک تقلید سے مراد یہ ہے کہ:
کوئی ایسا شخص جو خود اجتہاد کی علمی اہلیت نہیں رکھتا، وہ کسی ایسے معتبر اور مستند مجتہد کے قول کو اختیار کرے جس کی علمی صلاحیت، فقہی بصیرت اور دیانت و تقویٰ مسلم ہو۔
تقلید شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے، کیونکہ اسلام نہ ہر فرد سے مجتہد بننے کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ ہی اسے اس کا مکلف ٹھہراتا ہے۔ انسانی معاشرت کا اصول یہ ہے کہ ہر فن اور ہر علم میں مہارت حاصل کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہوتی، چنانچہ عقلِ سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ جس میدان میں خود مہارت نہ ہو وہاں ماہرین پر اعتماد کیا جائے۔ جیسے طب کے معاملے میں مریض اپنی جان کسی اناڑی کے سپرد نہیں کرتا بلکہ ایک تجربہ کار معالج کی طرف رجوع کرتا ہے، انجینئرنگ میں عام آدمی اپنے قیاس پر عمارت تعمیر نہیں کرتا اور قانون کے پیچیدہ مسائل میں وکیل کی رہنمائی قبول کی جاتی ہے، بالکل اسی طرح دینی احکام اور فقہی جزئیات میں اہلِ علم اور مجتہدین کی پیروی عین دانش مندی اور فکری احتیاط کا تقاضا ہے۔
تقلید کی ضرورت اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ ہر فرد نہ علمی اعتبار سے مجتہد بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل، وقت اور استعداد رکھتا ہے۔ اگر ہر شخص کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ اپنی فہم، ذوق یا رجحان کی بنیاد پر دینی احکام اخذ کرنے لگے تو اس کا نتیجہ علمی آزادی نہیں بلکہ فکری انتشار اور دینی فتنہ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ خود ساختہ آراء، نصوص کی سطحی تعبیرات اور شخصی رجحانات شریعت کے نظم کو پارہ پارہ کر دیتے ہیں، جبکہ تقلید اس انتشار کے سامنے ایک مضبوط بند باندھتی ہے۔
مزید برآں تقلید فقہی تسلسل کی ضامن ہے۔ یہ امت کو ایک منظم علمی روایت سے جوڑے رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں اختلاف، اختلافِ رائے کی حد تک محدود رہتا ہے اور افتراق و انتشار میں تبدیل نہیں ہوتا۔ ائمہ مجتہدین کی پیروی نے صدیوں تک امت کی فکری وحدت کو محفوظ رکھا اور عام مسلمان کو اس الجھن سے بچایا کہ وہ ہر نئے مسئلے میں خود فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ تقلید جمود نہیں، اعتماد کا نام ہے—اعتماد اس علمی ورثے پر جو نسل در نسل منتقل ہوا، جس کی بنیاد قرآن و سنت کے فہم، عمیق فقہی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور بے مثال قربانیوں پر قائم ہے۔ یہی اعتماد عام مسلمان کے لیے سہولت ، تحفظ اور دین پر ثابت قدمی کا ذریعہ ہے۔
معاصر ذہنیت کی غلطی:
معاصر فکری فضا میں سب سے بڑی اور سب سے خطرناک غلط فہمی یہ پیدا ہو چکی ہے کہ اجتہاد کو آزادیٔ مطلق اور تقلید کو ذہنی غلامی کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ گویا اجتہاد کا مفہوم یہ بنا دیا گیا ہے کہ ہر شخص نصوصِ شرعیہ سے ماورا ہو کر اپنی رائے، ذوق اور فہم کو دین کا معیار بنا لے، جبکہ تقلید کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ عقل و شعور کو سلب کر لینے والی کوئی جبری پابندی ہو۔ اس سطحی تقسیم نے دین کے ایک متوازن علمی نظام کو دو انتہاؤں میں بانٹ دیا ہے، جہاں نہ اجتہاد اپنی اصل روح کے ساتھ باقی رہتا ہے اور نہ تقلید اپنی حقیقی معنویت کے ساتھ سمجھی جاتی ہے۔
اس غلط فہمی کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا، سرسری مطالعہ اور جذباتی خطابت نے نہایت گہرا کردار ادا کیا ہے۔ چند اقتباسات، آدھی ادھوری معلومات اور پرجوش نعروں نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ ہر فرد قرآن و حدیث کو براہِ راست سمجھنے اور ان سے شرعی احکام اخذ کرنے کا اہل ہے، خواہ اسے نہ اصولِ فقہ سے واقفیت ہو، نہ حدیث کے مراتب و اسناد کا شعور، اور نہ ہی نصوص کے فہم میں درکار علمی احتیاط کا ادراک۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں اجتہاد کے نام پر دراصل انحراف جنم لیتا ہے اور تقلید سے بیزاری ایک مستقل فکری رویہ بن جاتی ہے۔
نتیجتاً دین ایک منضبط علمی روایت کے بجائے شخصی آراء کا مجموعہ بنتا جا رہا ہے، اور امت فکری انتشار کی اس راہ پر گامزن ہے جہاں ہر آواز خود کو حق کا نمائندہ سمجھتی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ اجتہاد کے وقار کے لیے مفید ہے اور نہ ہی تقلید کے فطری اور حفاظتی کردار کے لیے، بلکہ دونوں کی مسخ شدہ تعبیرات امت کو ایک ایسے انتشار کی طرف دھکیل رہی ہیں جس کے اثرات دینی وحدت اور علمی استحکام پر گہرے اور دیرپا ہیں۔
فکری انحراف:
تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عصرِ حاضر میں اجتہاد جیسی مقدس اور نہایت ذمہ دارانہ علمی اصطلاح بتدریج اپنے اصل مفہوم سے ہٹ کر ایک نعرے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو دینی روایت سے بیزار، فقہی نظم سے نالاں اور علمی قیود و ضوابط کو بوجھ سمجھتا ہے، اپنے موقف کو بلا تردّد "اجتہاد"کا عنوان دے کر پیش کرنے لگتا ہے۔ اس طرزِ فکر کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نصوصِ شرعیہ کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے، صدیوں پر محیط فقہی روایت کو غیر متعلق اور فرسودہ قرار دیا جاتا ہے، اور شخصی رائے کو شریعت کے ہم پلہ لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ طرزِ عمل اجتہاد نہیں بلکہ درحقیقت تشریع بالہویٰ ہے، یعنی خواہشِ نفس کو قانون سازی کا درجہ دینا—اور امت اس کے تلخ نتائج کو فکری انتشار، دینی بے سمتی اور باہمی تصادم کی صورت میں پہلے ہی بھگت رہی ہے۔
ائمہ اربعہ کی تقلید:
اس کے برعکس اگر ائمہ اربعہؒ کی تقلید کو تاریخی اور علمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہ امت کی ایک منظم اور مربوط علمی تشکیل کا مظہر ہے۔ ان ائمہ نے نصوصِ شرعیہ کو سمجھنے کے اصول و ضوابط مرتب کیے اوراختلافِ رائے کو ایک نظم و ضبط کے تحت رکھا اور شریعت کو افراط و تفریط کی انتہاؤں سے محفوظ کیا۔ ان کی پیروی دراصل ان کے قائم کردہ منہجِ فہمِ شریعت کی پیروی ہے، اسی لیے تقلید نے صدیوں تک امت کو فکری پراگندگی اور عملی انتشار سے محفوظ رکھا اور دینی زندگی کو ایک متوازن اور قابلِ عمل سانچے میں ڈھالے رکھا۔اجتہاد و تقلید میں توازن کی راہ:
اسلام کا منہج نہ تو عقل کو معطل کرتا ہے اور نہ روایت کو بے وزن بناتا ہے، بلکہ وہ دونوں کے درمیان ایک حکیمانہ توازن قائم کرتا ہے۔ اہلِ علم کے لیے اجتہاد، تحقیق اور استنباط کا میدان کھلا رکھا گیا ہے تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں شریعت کی رہنمائی مؤثر انداز میں سامنے آ سکے، جبکہ عام مسلمانوں کے لیے تقلید، اعتماد اور عمل کا راستہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ فکری الجھنوں اور خود ساختہ آراء کے بوجھ سے محفوظ رہیں۔ جب یہ دونوں اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہیں تو دین ایک زندہ، متحرک اور محفوظ نظام کی صورت میں باقی رہتا ہے، اور جب ان کی حدود پامال کی جاتی ہیں تو فتنہ، انتشار اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔
بالآخر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کا مسئلہ دراصل علم اور ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔ اجتہاد وہاں حسن اور ضرورت ہے جہاں علمی اہلیت، اصولی بصیرت اور تقویٰ موجود ہو، اور تقلید وہاں نعمت اور سہولت ہے جہاں یہ استعداد میسر نہ ہو۔ معاصر ذہن کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ دین نہ تو تجربات کی تجربہ گاہ ہے اور نہ ہی خواہشاتِ نفس کی توسیع کا ذریعہ، بلکہ یہ ایک امانت ہے جو صرف علم، دیانت اور انکسار کے ساتھ ہی محفوظ رہ سکتی ہے۔ اگر ہم نے اجتہاد کو اس کے حقیقی علمی مقام پر اور تقلید کو اس کی فطری و حفاظتی حیثیت پر قائم نہ رکھا تو فکری آزادی کے نام پر ہم خود کو ایسے انتشار کے حوالے کر دیں گے جہاں نہ علم باقی رہے گا، نہ روایت، اور نہ ہی امت کی وحدت۔