مثال:
يَآ اَيّـهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّّخَلَقَ مِنْـهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْـهُمَا رِجَالًا كَثِيْـرًا وَّنِسَآءً[1]
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کو ایک نفس سے پیدا کیا۔ یہاں مسلم
فیمنسٹ نے اس آیت کی اتحاد اور مساوات پر مبنی جامع تفسیر کی ضرورت پر زور دیتے
ہوئے یہ مؤقف پیش کیا کہ قرآن کی دیگر متعلقہ آیات کو بھی اسی بنیادی اصول کی روشنی
میں دیکھا جائے تاکہ شرعی مؤقف معتدل اور متوازن ہو۔ اگر کسی بھی تفسیر یا تشریح میں
ایسا مفہوم بیان کیا گیا ہو جو اس اتحاد اور یگانگت پر مبنی اصول کے خلاف ہو، تو
اس کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ تفسیر کی روایت میں جامعیت اور اتحاد کا
عنصر برقرار رہے۔مسلم فیمنسٹ ان تصورات پر شدید تنقید کرتے ہیں جو مسلم فکر میں
عورت سے متعلق رائج ہیں۔ ان میں ایک عام خیال یہ ہے کہ عورت مرد، یعنی حضرت آدمؑ کی
پسلی سے تخلیق ہوئی، جبکہ اس بات کا کوئی قطعی عقلی یا نصی ثبوت موجود نہیں۔ اسی
طرح، خروجِ جنت کا الزام بی بی حواؑ پر ڈالنا بھی ایک غلط فہمی ہے جس سے فیمنسٹ
مفکرین کا اتفاق نہیں۔ ان کے نزدیک یہ واقعہ حضرت آدمؑ اور بی بی حواؑ دونوں کا
مشترکہ فعل تھا۔ دونوں کو ابلیس نے ورغلا کر اس گناہ میں مبتلا کیا اور دونوں کو
برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ قرآنِ کریم میں کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ
حواؑ نے آدمؑ کو گناہ پر اکسایا تھا۔لہٰذا کسی ایک جنس کو زوالِ انسانیت کا سبب یا
موجب قرار دینا غیرمنصفانہ اور غیر منطقی ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ ان تفسیری روایات کو ازسرنو دیکھا
جائے تاکہ قرآن کی اصل تعلیمات کی روشنی میں مساوات اور یگانگت پر مبنی تشریح
سامنے آئے۔مشہور امریکن مسلم فیمنسٹ رفعت حسن[2] نے اس
پر کام کیا اور ان نظریات کو پیش کیا۔[3]رفعت
حسن اس حوالے سے لکھتی ہیں کہ:
In
none of the thirty or so passages that describe the creation of humanity ... is
there any statement that could be interpreted as asserting or suggesting that
man was created prior to woman or that woman was created from man.
قرآن کریم کے تیس یا اس سے
زائد اقتباسات میں سے کسی میں بھی تخلیق انسانی کو بیان نہیں کیا گیا ،
نہ یہ بیان کیا گیا کہ مرد کی عورت سے پہلے
تخلیق ہوئی ہے ، یا عورت کو مرد سے پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے اس نتیجہ کو ثابت
کرنے کے لیے سورہ نساء کی پہلی آیت کو مستدل کے طور پر بھی ذکر کرتی ہیں۔[4]
سورہ نساء کی پہلی آیت سے ایک طرف
جمہور اہل روایت نے ایک مفہوم اخذ کیا تو دوسری طرف رفعت حسن اور آمنہ ودود نے
یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سورہ نساء کی پہلی
آیت میں ذکر کردہ نفس کی طرف مرد ہونے کی نسبت کا کوئی متنی یا لسانی جواز موجود
نہیں ہے کہ تمام نوع انسانی کی ابتدا مرد سےہوئی ہے، یا تخلیق انسانی کی اصل نفس آدم
ہے۔[5] ان کے ہاں مرد و عورت دونوں ایک ہی وقت میں ایک
ہی مادہ سے پیدا ہوئے ہیں ، کسی کو دوسرے پر کسی قسم کی کوئی سبقت یا فضیلت حاصل
نہیں ہے اور نہ ہی عورت ہی خروج من الجنۃ کا واحد سبب ہے بلکہ مرد و عورت دونوں خدا کے حکم کی خلاف ورزی میں یکساں شریک تھے
اسی لیے دونوں کو جنت سے نکال دیا گیا۔
مسلم فیمنسٹ کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے مرد و زن
دونوں کو یکساں اخلاقی ذمہ داریوں کا مکلف قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن
سے خطاب کرتے ہوئے انسانیت کو اخلاقی برابری کی بنیاد پر آزمایا اور فضیلت کا مدار
جنس یا صنف کے بجائے کسی خاص باطنی کیفیت پر رکھا،جس کی وجہ سے کہاجاسکتا ہے کہ
مرد و عورت دونوں میں یکساں صلاحیتیں اور مخفی استعداد موجود ہیں، جن کی بنیاد پر
وہ روحانی ترقی میں سبقت لے جا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہا اعمال
کی معنویت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، اور اس
میں کسی قسم کی جنس یا صنفی تفریق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی
ہے کہ الہامی فکر میں فردِ انسانیت کی روحانی اور اخلاقی ترقی کو بنیادی حیثیت
حاصل ہے، جو کہ جنس سے ماورا ہے۔ جب کوئی شخص الہامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کامیابی
حاصل کرتا ہے تو اس کی جنس یا صنف غیر اہم ہو جاتی ہے۔
مسلم فیمنسٹ اس نقطہ نظر کو مزید تقویت دیتے ہوئے یہ واضح
کرتے ہیں کہ معاشرت میں پائی جانے والی جنسی اور صنفی تفریق درحقیقت پدرشاہی
معاشرتی رجحانات کا نتیجہ ہے، جس کا ازالہ ناگزیر ہے۔ قرآن مجید کا مزاج اور اسلوب
یہ ہے کہ وہ انسانوں کو اخلاقی مساوات کی دعوت دیتا ہے اور دونوں صنفوں کو نیکی
اور فضیلت کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس لیے قرآن کی اس بنیادی تعلیم کو مرکز
بنا کر دیگر نصوص کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید کی نصوص کسی انسانی فکر کی پیداوار
نہیں بلکہ الہامی ہدایت ہیں، جو مرد و عورت کو برابری کی بنیاد پر مخاطب کرتی ہیں
اور اخلاقی مساوات کو سماجی اور روحانی ترقی کا معیار قرار دیتی ہیں۔
[1] سورۃالنساء:4:1
[2] رفعت حسن: (پیدائش 1943) پاکستانی نژاد مسلم امریکی فیمنسٹ ہیں جو لاہور میں پیدا ہوئی اور 1972 کو امریکہ منتقل ہوگئیں۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں:
[3] Riffat Hassan, “Muslim Women and Post-Patriarchal
Islam,” in After Patriarchy: Feminist Transformations of the World Religions,
eds. Paula M. Cooey, William R. Eakin, and Jay B. M cDaniel (Maryknoll, NY:
Orbis Books, 1991), 47, 49
[4] Riffat Hassan, “The Issue of Woman-Man
Equality in the Islamic T radition,” in Women’s and Men’s Liberation:
Testimonies o f Spirit, eds. Leonard Grob, Riffat Hassan, and Haim Gordon (New
York: Greenwood Press, 1991), 74
