“an explicitly declared project, an analytical term,—and Islamic feminist as a term of identity……derives its understanding and mandate from the Qur’an, seeks rights and justice for women, and for men, in the totality of their existence.”[2]
" ایک واضح طور پر اعلان کردہ منصوبہ، ایک تجزیاتی اصطلاح، اور شناخت کی اصطلاح کے طور پر اسلامی حقوق نسواں۔۔(اسلامی تانیثیت ) کی بنیاد قرآن ہے ، اسی کی تفہیم کے ذریعے مرد و عورت میں سے ہر ایک کے لیے مساوی حقوق اور زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔"
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مارگٹ بدران اس موضوع پر سوال اٹھاتی ہیں
کہ جب تانیثیت کے ساتھ "اسلامی" کا سابقہ جوڑا جاتا ہے تو کیا اس سے یہ
ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اور تانیثیت بھی موجود ہے؟ اگر ایسی کوئی تانیثیت موجود ہے،
تو کیا وہ اسلامی تانیثیت سے متاثر ہے یا اس سے مختلف ہے؟ بدران کا موقف ہے کہ اس
اصطلاح کو سمجھنے کے لیے سیکولر ازم، مذہب، اور روایتی افکار سے بالاتر ہو کر غور
کرنا چاہیے۔ ان کے خیال میں اسلامی تانیثیت ایک ایسا نظریہ ہے جس میں مذہب اور سیکولر
خیالات کا بہترین امتزاج پایا جاتا ہے، جو خواتین کے حقوق اور صنفی انصاف کی
جدوجہد میں معاون ثابت ہوتا ہے۔دوسری جانب، حیدر مغیثی[3] اور
مہناز افخمی [4]جیسے
ناقدین نے اسلامی تانیثیت پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو خواتین اسلامی
قانون میں تبدیلی کی خواہاں ہیں، ان کی کاوشیں قابل تعریف نہیں سمجھی جا سکتیں۔ ان
ناقدین کے مطابق، اسلامی تانیثیت کے اصولوں اور روایتی اسلامی قوانین کے درمیان
تضاد پایا جاتا ہے، اور اس نظریے کو اپنانا مذہبی تعلیمات کے ساتھ سمجھوتے کے
مترادف ہو سکتا ہے۔اسلامی تانیثیت کے حامی افراد کا موقف یہ ہے کہ مغیثی اور افخمی
جیسے مفکرین نے جس نظریے کو اپنایا ہے، اس میں تانیثیت کو محض مغربی فکر کے
نمائندہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک غلط اور خیالی تصور ہے۔
تانیثیت کو محض مغربی تصور کے طور پر رد کرنے کی بجائے، اسے مقامی روایات، ثقافتی
پس منظر اور سماجی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اب اٹھارہویں صدی سے اسلامی روایت میں کئی نئی علمی تشریحات
سامنے آئی ہیں جنہوں نے مسلم خواتین کے خلاف سماجی برائیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش
کی ہے اور واضح کیا کہ خواتین کے بہت سے حقوق اسلام میں واضح طور پر موجود ہیں، لیکن
تاریخی طور پر معاشرتی عوامل کی وجہ سے ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ تاہم، معاشرہ
ان کاوشوں کو پذیرائی دینے میں اب بھی ناکام رہا ہے، اور ان علمی تشریحات کو وسیع
پیمانے پر قبولیت حاصل نہیں ہو پائی ہے۔
حقوق نسواں کی اصطلاح اور اس کی بنیاد عملی طور پر سب سے
پہلے انیسویں صدی کے دوران مشرق وسطیٰ میں یورپی استعمار کے تناظر میں مسلم معاشرت
میں داخل ہوئی۔ 1920 کی دہائی کے اوائل میں 'فیمنزم' کی اصطلاح مصر میں متعارف ہوئی۔
اسلامی معاشرے میں اس کی آمد کا آغاز مصر پر برطانوی قبضہ کے بعد ہوا۔تانیثیت یعنی
فیمنزم کے ساتھ دوسرا متوازی رجحان تانیثی الہٰیات کی صورت میں مستقل رہا ہے جس نے
ادیانِ ثلاثہ(یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کو یکساں متاثر کیا۔ یہودیت و عیسائیت کے
ساتھ ساتھ اسلام بھی اس کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکا اور کچھ مسلم فیمنسٹ نے اسلامی
نصوص قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کا مطالعہ صنفی برابری پر مبنی فکر کے ساتھ کرنے
کی ضرورت کو اجاگر کیا اور ان کا یہ بنیادی دعویٰ سامنے آیا کہ اسلامی متون کو
ازسرنو نسوانی تناظر میں مطالعہ کرنا ضروری ہے کیونکہ نصوص کی موجودہ تشریحات پر
گہری پدرسری چھاپ موجود ہے جس کی وجہ سے ایک طرف خواتین کا استحصال ہوا تو دوسری
طرف قانون کی تشکیل میں خواتین کی عدم شمولیت کی وجہ سے شدت اور سختی کا ایسا رویہ
سامنے آیا جو عموماً قانون کی مجموعی حیثیت کو مجروح کرتا ہے۔ یہ انتہائی قابلِ
غور پہلو ہے کہ وہ نصوص کو کس طرح نسوانی تناظر میں دیکھتی ہیں اور اس ازسرنو تشکیل کی خارجی صورت یعنی ظاہری
احکام میں موجودگی کو کس حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے؟
اس تعبیرِ نو کے لئے Reinterpretation کی اصطلاح
استعمال ہوتی ہے۔فیمنسٹ تھیالوجسٹ نے روایتی علماء مفسرین سے اختلاف کرتے ہوئے تفسیری
تسلسل کی روایت کا انکار کیا ہے اور تمام نصوص کو نسوانی نقطہ نظر سے جانچنے کی
کوشش کی۔ انہوں نے تفسیری روایت میں جمہورِ اہلِ علم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور
نصوص کو کھینچ تان کر غیر فطری نسوانی ضروریات کے ثبوت کے لئے پیش کیا۔اس کی مثال
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور
تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو۔[5] مشہورفیمنسٹ عزیزہ الہبری[6] نے اس
آیت کے ضمن میں روایتی مفسرین کے تشریحات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہر انسان
رب تعالیٰ کی مخلوق ہے ، کسی کو دوسرے پر
سوائے تقوٰی کے کوئی فضیلت نہیں ہے ۔
لوگوں کے درمیان اختلاف محض تعارف کے لیے رکھا گیا ہے وگرنہ مردانہ جنس کو
عورت پر کسی قسم کی کوئی برتری نہیں دی گئی ہے۔[7]
[1] مارگٹ بدران:( Margot Badran) (04 دسمبر 1936): مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی پروفیسر ہیں، جن کا
خاص فوکس خواتین اور صنفی مطالعات پر ہے۔ وہ اسلامی فیمینزم کے موضوع پر ایک معروف
عالمہ ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: https://en.wikipedia.org/wiki/Margot_Badran
[2] Margot Badran, “Islamic Feminism: What’s in a Name?” Al-Ahram Weekly Online 17-23 January 2002 Issue no. 569
[3] حیدر مغیثی:( 1944): ایرانی نژاد عالم، مفکر، اور فیمینسٹ تھیولوجین ہیں، جنہوں نے اسلامی فقہ اور شریعت کے مسائل پر خاص طور پر خواتین کے حقوق اور صنفی انصاف کے تناظر میں اہم کام کیا ہے۔ ان کی تحریریں اور خیالات اسلامی فیمینزم اور جدید مسلم خواتین کے حقوق کے مسائل پر مرکوز ہیں۔
[4] مہناز افخمی(14 جنوری 1941ء): ایک ایرانی خاتون جوکرمان میں پیدا ہوئی وار خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں۔ 1976ء سے 1978ء تک ایران کی کابینہ میں خدمات انجام دیں۔ وہ خواتین لرننگ پارٹنرشپ (WLP) کی بانی اور صدر ہیں، فاؤنڈیشن برائے ایرانی تعلیمات کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایران کی انقلاب سے پہلے کی حکومت میں خواتین کے امور کی سابق وزیر ہیں۔
[5] سورۃالحجرات: 49:13
[7] Al-Hibri, Azizah. "An Introduction to Muslim Women's Rights" in Windows of Faith: Muslim Women Scholar-Activists in North America, edited by Gisela Webb. Syracuse University Press. pp. 52–53.
