سنت الہی:
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسانی زندگی کا کینوس کبھی خوشیوں کے رنگوں سے سجا ہوتا ہے تو کبھی غم و مصیبت کے سائے اسے ڈھانپ لیتے ہیں۔ قرآن کریم میں خالقِ کائنات نے اس حقیقت کی طرف ہماری توجہ دلائی ہے کہ:
اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مال و جان اور پھلوں کی کمی کے ساتھ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
دنیا کی یہ زندگی امتحان ہے جس کا تذکرہ بھی قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ ملتا ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت اور آزمائش کا فلسفہ ایک وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک الہی سنت ہے جو انسان کی صبر و استقامت کو پرکھنے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کو قریب کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان آزمائشوں کے ذریعے انسان کی دنیاوی وابستگیوں کو جھنجھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی عاجزی اور بے بسی کو پہچان کر رب کریم کی طرف رجوع کرے۔ پھر آگے جاکر یہی رجوع اور صبر انسان کی روحانی بالیدگی اور ایمان کی پختگی کا سبب بنتا ہے۔
دہشتگردی کی لہر:
خیبرپختون خواہ پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے جو جعرافیائی، ثقافتی اور تاریخی حوالوں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بلند وبالا پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ سرزمین قدرتی وسائل، زرخیز وادیوں، شفاف چشموں اور قیمتی معدنیات سے مالامال ہے۔ اس خطے کی جعرافیائی پوزیشن دنیا کے ساتھ تجارتی روابط کی بنیاد فراہم کرتی ہے تو یہ پاکستان کے دفاعی اور اسٹریٹجک اعتبار سے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پختون ولی، مہمان نوازی اور اخلاص و محبت کے وہ روشن پہلو ہیں جو صدیوں سے اس قوم کی پہچان رہے ہیں۔ تاہم اس صوبے کو ہمیشہ ان ہی خصوصیات کی بنیاد پر سکون اور خوشحالی نصیب نہ ہوسکی۔ کئی دہائیوں سے بدامنی اور دہشتگردی کی لہر نے یہاں امن و سکون کو بری طرح مجروح کیا۔ کبھی شدت پسندوں کے حملے، کبھی بم دھماکے اور کبھی خودکش حملے، ہر دن عوام کو خوف اور بے یقینی کی نئی کیفیت سے دوچار کرتے رہے۔ ان حالات نے صوبے کی معیشت، تعلیمی ڈھانچے اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔
قدرتی آفت:
ابھی یہ خطہ دہشگردی کے زخموں سے چور چور ہے کہ دوسری طرف قدرتی آفت نے ایک اور امتحان کی صورت اختیار کر لی ہے۔ حالیہ سیلاب نے ایک دفعہ پھر صوبے کی فضاء کو سوگوار کر دیا ہے اور مخصوص علاقوں کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے کہ ان زخموں کا برسوں میں بھرنا مشکل ہے۔ بونیر کا علاقہ پیر بابا ایک قیامت خیز منظر پیش کر رہا ہے جہاں صرف کھنڈر اور ملبہ ہی نظر آتا ہے اور ہر طرف آنسو ہی آنسو ہیں۔ گھروں کی چھتیں بہہ گئیں، دکانیں پانی میں ڈوب گئیں، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شہید ہوچکے ہیں اور پتہ نہیں کہ کتنے لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ سوات کی صورت حال مختلف نہیں جہاں معمولاتِ زندگی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔ لوئر دیر میں سیلاب نے جزوی طور پر کافی نقصان کیا۔ اس سے بڑھ کر انتہائی مظلوم اور مشکلات سے گھرا ضلع باجوڑ، جو ایک طرف دہشتگردی کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف سیلاب نے بھی تباہی مچا دی۔ تفصیلی حال لکھنا راقم کے بس میں نہیں لیکن اتنا کہہ سکتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں۔
اس تباہی کی وجہ سے ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور ہر اجڑا ہوا گھر، ہر ٹوٹا ہوا پل، ہر کھیت کا بہا ہوا سبزہ دیکھ کر زندگی کی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی ناپائیدار ہے اور ہماری بساط قدرت کے سامنے کس قدر چھوٹی ہے۔ ہم تو اظہارِ ہمدردی کرسکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کرسکتے ہیں جو ان کے نقصان کا ازالہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ حقیقی بدلہ تو اللہ تعالیٰ دے سکتے ہیں اور یقیناً وہ دیں گے لیکن ہمیں اس صورتحال میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ان کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ ہم ان کے ساتھ اور ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ ان کے نقصان ہمارا نقصان ہے جس پر ہم سب مل کر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم ان کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ یہ مشکل ضرور ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان اور آزمائش ہے جس کے بعد بہت عمدہ خیر اور آسانی نصیب ہوگی۔(ان شاء اللہ)
یقیناً ان وادیوں میں ایک دن پھر سبزہ اگے گا، بہتے چشمے نغمے سنائیں گے اور اجڑی بستیاں آباد ہوں گی لیکن آج ہم ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے اور ان کے امیدوں کا سہارا بننا ہے، یہی وہ وقت ہے کہ دکھ بانٹیں، آنسو پونچھیں اور اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں۔
فوری اقدامات کی ضرورت:
- سیلاب متاثرین کے لئے کھانے پینے کی اشیاءم کپڑے اور ادویات کی فوری فراہمی۔
- ریسکیو اور میڈیکل ٹیموں کی مزید فعالیت۔
- زخمیوں کی مؤثر دیکھ بھال
- عارضی رہائشگاہوں کا قیام
- اجتماعی دعاؤں اور روحانی اعمال کا اہتمام
Tags:
عمومی مضامین
