غصہ: ایک نفسیاتی زاویہ،


 

انسانی شخصیت میں جذبات کا ظہور ایک فطری عمل ہے، مگر جب یہ جذبات       قابو سے باہر ہو جائیں تو نہ صرف باطنی سکون متاثر ہوتا ہے بلکہ تعلقات اور جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ غصہ ایک ایسا ہی جذبہ ہے، جو اگر اعتدال میں رہے تو دفاع اور بقا کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے، لیکن شدت اختیار کرنے پر یہ تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

غصے کی نوعیت اور نفسیاتی تعریف

‎معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر چارلس اسپیلبرگر کے مطابق غصہ ایک پیچیدہ جذباتی کیفیت ہے، جس کی شدت ہلکی سی جھنجھلاہٹ سے لے کر شدید طیش اور انتہائی غضب تک مختلف درجوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ کیفیت صرف  ذہنی و جذباتی نہیں بلکہ جسمانی و حیاتیاتی تبدیلیوں سے بھی جڑی ہوتی ہے، جیسے دل کی دھڑکن اور فشارِ خون میں اضافہ، اور ہارمونز (ایڈرینالین، نورایڈرینالین) کا اخراج، جو جسم کو فوری ردِعمل کے لیے تیار کرتے ہیں۔

‎اسباب اور محرکات

‎غصے کے اسباب بیرونی اور داخلی دونوں ہو سکتے ہیں:

‎بیرونی عوامل: ناروا سلوک، ناگوار واقعات، ٹریفک جام یا اچانک پیش آنے والی رکاوٹیں وغیرہ۔

‎داخلی عوامل: منفی سوچ، ذاتی مسائل پر مسلسل اضطراب، یا ماضی کے صدمہ انگیز تجربات کی یاد۔

‎غصے کا اظہار اور رویے

‎غصے کے اظہار کے تین بنیادی طریقے ماہرین نے بیان کیے ہیں:

‎1. اظہار (Expression) — غصے کو پُراعتماد، مہذب اور غیر جارحانہ انداز میں بیان کرنا۔

‎2. دبانا (Suppression) — غصے کو اندر روک کر مثبت سرگرمیوں میں توجہ مرکوز کرنا، مگر طویل مدت میں یہ ڈپریشن یا جسمانی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

‎3. اندرونی سکون (Calming) — جسمانی اور ذہنی سطح پر خود کو پرسکون کرنے کی مشقیں اختیار کرنا، جیسے گہری سانس لینا اور دل کی دھڑکن کم کرنا۔


‎ڈاکٹر اسپیلبرگر کے مطابق، اگر یہ تینوں طریقے ناکام ہو جائیں تو خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ کوئی فرد یا شے نقصان کا شکار ہو گی۔

‎ڈاکٹر جیری ڈیفن بیکر، جو غصے کے نظم و نسق کے ماہر ہیں، بتاتے ہیں کہ بعض افراد فطری طور پر زیادہ جلد اور زیادہ شدت سے غصہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہر وقت چڑچڑے، معترض یا تنقیدی رویہ رکھتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر جارحیت نہ دکھائیں۔ ایسے افراد میں Frustration Tolerance کم ہوتی ہے، یعنی وہ رکاوٹ یا ناانصافی کو برداشت نہیں کر پاتے۔

‎نظم و نسق کی حکمتِ عملیاں

‎تحقیقی مطالعات کے مطابق، درج ذیل تکنیکیں غصے پر قابو پانے میں مؤثر ہیں:

‎ریلیکسیشن ٹریننگ: گہری سانس، مراقبہ، یا ہلکی جسمانی ورزش۔

‎ادراکی تشکیل نو (Cognitive Restructuring): منفی خیالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں تبدیل کرنا۔

‎مسئلہ حل کرنے کی مہارت: فوری ردِعمل کے بجائے منصوبہ بندی اور صبر کے ساتھ فیصلے کرنا۔

‎موثر مواصلات: دوسروں کی بات بغور سننا اور محتاط جواب دینا۔

‎مزاح کا تعمیری استعمال: تناؤ کم کرنے کے لیے مثبت مزاح، مگر طنز یا تحقیر سے پرہیز۔

‎ماحول کی تبدیلی: اشتعال انگیز حالات سے وقتی طور پر دور رہنا۔

ہم اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس سے کئی زیادہ موثر رہنمائی ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کو قابو کرنے کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے۔ اگر بیٹھنے کے بعد غصہ ختم نہ ہو تو وہ اس کو چاہیے کہ وہ لیٹ جائے تاکہ ذہن کسی اور سمت متوجہ ہو اور غصہ کی جذباتی کیفیت ختم ہو۔ آج ہمیں اپنے رویوں کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح آج غصہ کی حالت میں اپنا اور مقابل کا نقصان کرتے ہیں اور بدقسمتی سے ان حکمت عملیوں سے کوسوں دور ہیں جن کی بدولت ایک فلاحی معاشرہ بن سکتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی