
"تناؤ اور غم" ایک پراسرار گونج
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟
تناؤ اور غم، وہ نفسیاتی بوجھ ہیں جو انسان کی روح کے لطیف تانے بانے میں گھونسلہ بنا لیتے ہیں۔ جی ہاں! اس آہ و بکا کی صورت میں جو دل کی ویرانی میں گونجتا ہے۔ انسانی وجود کے مابین جھانکتی یہ گہری شکست، انسان کو ایک بے یار و مددگار صحرا میں چھوڑ دیتی ہے، جہاں خیالات کی ٹھنڈی ہوائیں اور جذبات کے سنسان گماں، اسے تنہا کر دیتے ہیں۔یہ دونوں کیفیتیں، گویا انسان کے اندرونی عالم کی ایسی کشمکش ہیں، جہاں روح اپنے نقوش گم کر بیٹھی ہو۔ تناؤ، وہ ہجوم ہے جو شعور کے شہر پر یلغار کرتا ہے اور غم، وہ سایہ دار گہرائی ہے جو دل کی بستی میں کرب کے پھول کھلاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ تناؤ اور غم کی آغوش میں ڈوبے ہوئے انسان کا وجود، ایک ایسا کشتی بان کی طرح ہے جو طوفانی سمندر کی لہروں کے بیچ بہہ رہا ہو، جس کی کشتیاں دھیرے دھیرے اپنی سمت کھو دیتی ہیں۔ اور یہ کیفیت اگرچہ فطری ہے، مگر اس کا زخم اگر بے درمان چھوڑ دیا جائے تو زہر کی مانند جسم و جان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔علمی طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تناؤ اور غم صرف لمحاتی جذبات نہیں، بلکہ نفسیاتی و جسمانی کیمیا کی ایسی تبدیلیاں ہیں جو انسان کے فکری و جذباتی توازن کو بگاڑ دیتی ہیں۔
تناؤ، درحقیقت ایک وہ قدرتی عمل ہے جو انسان کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنے کی حالت میں مجبور کرتا ہے۔ یہ ذہنی و جسمانی محرکات کی ایسی لہر ہے جو انسان کی کارکردگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کی برداشت کی حد کو بھی پرکھتی ہے۔ مگر جب یہ لہر حد سے بڑھ جائے، تو یہ ایک زہر بن کر انسان کی سوچ، رویے اور جسمانی صحت کو متاثر کرنے لگتی ہے۔
غم، اس تناؤ کا گہرا اور زیادہ پیچیدہ روپ ہے، جو کسی نقصان، ناکامی یا مایوسی کے ردعمل میں پیدا ہوتا ہے۔ علمی تحقیقات بتاتی ہیں کہ غم انسان کے دماغ کو متاثر کرتا ہے، جس کے باعث اداسی، امید کی کمی اور زندگی سے لاتعلقی جیسی علامات جنم لیتی ہیں۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
تناؤ اور غم کی اس نفسیاتی کشمکش میں، انسان کی ذہنی صحت کو بچانے کے لیے مثبت حکمت عملی اور اندرونی قوت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی نقطہ ہے جہاں اسلامی تعلیمات اور سیرتِ نبوی ﷺ کا انمول کردار ہمارے سامنے آتا ہے۔ صبر و شکر کی تعلیمات، دعا و استغفار کی ترغیب، اور اللہ پر کامل یقین، وہ ستون ہیں جو اس ذہنی کشمکش میں انسان کو استقامت کی راہ دکھاتے ہیں۔
ہمارا پہلا کام یہ ہوگا کہ ہم مشکل وقت میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں گے۔ جیسے طائف کے موقع پر شدید غم و تکلیف کی حالت میں رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ:
اللّهُمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوّتِي ، وَقِلّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النّاسِ،يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ ! أَنْتَ رَبّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبّي ،إلَى مَنْ تَكِلُنِي ،إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهّمُنِي ،أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي ،إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عَلَيّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي، وَلَكِنّ عَافِيَتَك هِيَ أَوْسَعُ لِي ، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِك الّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَك، أَوْ يَحِلّ عَلَيّ سُخْطُكَ، لَك الْعُتْبَى حَتّى تَرْضَى،وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ إلّا بِك".
"اے اللہ! میں تجھ سے اپنی بے سہارگی، بے سروسامانی اور لوگوں کے سامنے اپنی بے وقعتی کا شکوہ کرتا ہوں۔ تو کمزوروں کا رب ہے، اور تو ہی میرا بھی رب ہے، تو مجھے کس کے سپرد کرنے والا ہے؟! کسی ناشناس کے جو مجھ پر ظلم ڈھائے؟! یا اس دشمن کے جسے تو میرے معاملے کی باگ ڈور سونپ دے؟! مولا! اگر تو مجھ پر غصے نہیں ہے تو مجھے سب قبول ہے، مگر تیری عافیت مجھے زیادہ راس آتی ہے۔ میں تیرے چہرے کے نور کی پناہ میں آتا ہوں، جس سے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں، اور دنیا و آخرت کے کام سنور جاتے ہیں؛ کہ میں تیرے غصے کی زَد میں آؤں، یا تیرے عتاب کا شکار ہو جاؤں! میں تیرے در پر پڑا ہوں جب تک تو راضی نہ ہو جائے، تیرے بغیر کسی سے بچنے کی طاقت ہے نہ کچھ کر گزرنے کی قوت"۔
یہ واقعہ اس حوالے سے ہمارے لئے ایک مستند رہنمائی کا نمونہ ہے کہ ہم غم اور تناؤ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو راحت و اطمینان سے بھر دیں گے۔
استغفار کی کثرت:
تناؤ اور غم سے نجات کے لئے دوسرا کام ہے، کثرتِ استغفار۔۔۔۔۔۔ جی، استغفار! ایک ندامت بھرا اعتراف، ایک جُذباتی طوفان، اور ایک رب کی رحمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی حسین مسکراہٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہﷺ نے استغفار کی کثرت کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور اس کے فوائد گنوائے ہیں کہ:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا(10)يُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا(11)وَّ يُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا(12)
"تو میں نے کہا: (اے لوگو!) اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا"۔
الحاصل:
تناؤ اور غم کی پراسرار گونج، درحقیقت انسان کے وجود کی وہ صدا ہے جو خاموشی میں بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ یہ وہ پیچیدہ لہر ہے جو دل و دماغ کی وادیوں میں گونجتی رہتی ہے، ہمیں اپنے اندر چھپے ہوئے جذبات اور حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے۔
اگرچہ یہ کیفیتیں دردناک اور کٹھن ہیں، مگر ان کی گہرائیوں میں ایک نہاں خزانہ بھی پنہاں ہے — وہ طاقت، وہ صبر، اور وہ امید جو انسان کو اندھیروں سے روشنی کی جانب لے جاتی ہے۔ ہر غم کے سائے کے پیچھے نیا سویرا، ہر تناؤ کی سختی میں نرمی اور سکون کا دروازہ موجود ہوتا ہے کہ زندگی کے رنگ صرف خوشی کے نہیں، بلکہ غم کے بھی ہیں، اور انہی رنگوں کی گہرائیوں میں انسان کی اصل ہستی کی جھلک چھپی ہوتی ہے۔
لہٰذا، تناؤ اور غم کو صرف رکاوٹ نہیں بلکہ ایک موقع سمجھیں، جہاں انسان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے اپنی طاقت کی بازیافت کرتا ہے، اور اپنے اندر ایک نیا نغمہ پیدا کرتا ہے — نغمہ حیات کا، جو ہمیشہ گونجتا رہے گا۔
Tags:
عمومی مضامین